تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 386
مضمون صحیح طور پر سمجھ سکتے ہیں اور نہ اتنی عر بی جانتے ہیں کہ اس کی عبارت سے صحیح نتائج اخذ کرنے کی قابلیت رکھتے ہوں۔مشہور مستشرق مارگولیتھ تھے یہ چوٹی کے مستشرقین میں سے سمجھے جاتے تھے۔عربی کے بھی یہ پروفیسر تھے اور تاریخ کے بھی پروفیسر تھے خصوصاً اسلامی تاریخ کے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انہوں نے لائف بھی لکھی ہے۔انہوں نے ایک دفعہ عربی بولنے کی مہارت کا دعویٰ کیا تھا میں جب لندن گیا تو لڑکوں نے شرارت سے ان کو مجبور کیا کہ وہ ہم سے عربی میں بات کریں۔باوجود ہمارے عرب ممالک میں نہ رہنے اور عربی بولنے کی مہارت نہ ہونے کے (پروفیسر مارگولیتھ کئی سال مصر میں رہ چکے تھے) دو چار فقروں کے بعد مارگولیتھ صاحب کہنے لگے میں عربی میں بات نہیں کر سکتا۔سو حقیقت یہ ہے کہ مستشرقین عربی بہت کم جانتے ہیں۔صرف بعض بعض مضامین کے بارہ میں انہوں نے تحقیق کی ہوتی ہے اور ان میں سےبعض مضامین میں وہ واقعہ میں بعض کام کی باتیں نکالنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔اگر عربی کتب میں سے ہم وہی باتیں خود نکالنا چاہیں تو نکال تو سکتے ہیں لیکن ہمیں بہت سی کتابیں دیکھنی پڑیں گی اور بہت زیادہ وقت صرف کرنا پڑے گا۔مگر بہرحال زبانِ عربی سے ان کی واقفیت اتنی کم ہے کہ ان کا آیات قرآنیہ کو دیکھ کر یہ کہنا کہ اس کی مکہ والی زبان ہے اور اس کی مدینہ والی محض ایک ڈھکوسلہ ہوتا ہے۔باقی رہا ان کا زمانہ کی تاریخ کے لحاظ سے سورتوں اور آیات کی ترتیب قائم کرنا دراصل یہ ان کی ہمارے مذہب پر ایک زد ہوتی ہے اور ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ قرآن کریم زمانہ کے لحاظ سے نازل ہواہے یعنی جس رنگ میں زمانہ بدلتا گیا اسی رنگ میں قرآن کریم کے احکام بھی بدلتے چلے گئے۔یوں تو ہم بھی کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے حالات کو مدّ ِنظر رکھا ہے مگر ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر یہ حالات نہ ہوتے تب بھی خدا تعالیٰ یہ احکام ضرور نازل کرتا کیونکہ یہ احکام صرف مکہ اور مدینہ کے لئے نہیں تھے بلکہ تمام دنیا کے لئے تھے۔مگر ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ یہ حالات مکہ کے زمانہ کے مطابق ہیں اور وہ حالات مدینہ کے زمانہ کے مطابق ہیں۔اس لئے فلاں فلاں سورتیں مکی ہیں اورفلاں فلاں مدنی۔لیکن بہرحال چونکہ ان کا رعب دنیا پر قائم ہے اس لئے ان کا نام ہمیں لانا پڑتا ہے اور چونکہ اس زمانہ میں لوگ ان کی بات کی طرف زیادہ توجہ کرتے ہیں اس لئے ہم بھی جہاں ہمیں اپنے مفید مطلب کوئی بات نظر آتی ہے ان سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض جگہ مضمون بھی کسی سورۃ کے مکی یا مدنی ہونے پر دلالت کرتاہے مگر یہ کوئی مستقل دلیل نہیں ہاں بعض جگہ ایسا ضرور ہوتا ہے۔چنانچہ میرے نزدیک اس سورۃ کا مضمون بھی ایسا ہے جو اس کے مکی ہونے پر دلالت کرتا ہے۔اس لئے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب تک مکہ میں تھے مکہ کی حفاظت کا وعدہ تھا ورنہ مدینہ میں جانے کے بعد تو یہ پیشگوئیاں شروع ہو گئی تھیں کہ ہم خود مکہ فتح کریں گے۔اس لئے مکہ کے حالات بہرحال