تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 388

رکھنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں سے نوازا ہے تو ہر شخص ان دونوں متقابل باتوں کو دیکھ کر سمجھ سکتاہے کہ یہ جو کچھ ہوا بالارادہ ہوا اتفاقی امر نہیں تھا۔مثلاً ہمارے ہاں پٹواری زمین کی پیمائش کرتے ہیں تو ان کا طریق یہ ہوتا ہے کہ پہلے وہ ایک پختہ نشان سے زمین کی پیمائش شروع کرتے ہیں اور مقصود زمین کے نشانات لگالیتے ہیں اس کے بعد ایک اورپختہ نشان سے پیمائش شروع کرتے ہیں اورپھر اس کے مطابق اس زمین کا حدود اربعہ نکال لیتے ہیں۔اگر دونوں اطراف کی پیمائش آپس میں مطابق ہو جائے تو اس میں غلطی کا کوئی امکان نہیں رہتا اور تسلّی ہو جاتی ہے کہ جو حد قائم کی گئی ہے وہ بالکل درست ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ نے ایک سورۃ میں یہ بیان کیا کہ دشمن سے کیا معاملہ ہوا اور دوسری سورۃ میں یہ بیان کیا کہ دوست سے کیا معاملہ ہوا۔جب ایک طرف اس سلوک کا ذکر کیا گیا ہے جو خانۂ کعبہ کے دشمنوں سے ہوا اور دوسری طرف اس سلوک کا ذکر کیا گیا ہے جو خانۂ کعبہ کے دوستوں سے ہوا تو جس طرح پٹواری جب دونوں طرف سے پیمائش کر لیتا ہے تو اس کی قائم کردہ حدود قطعی طور پر درست ہوتی ہیں اسی طرح دوست اور دشمن سے مقابل کا یہ سلوک بتاتا ہے کہ دشمن سے جو سلوک ہوا وہ بھی بالارادہ تھا اور دوست سے جو سلوک ہوا وہ بھی بالارادہ تھا اور چونکہ دونوں زاویوں سے پیمائش ایک ہی نکلی ہے۔اس لئے دشمن کی تباہی اتفاقی امر نہیں کہلا سکتا۔بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں) اللہ (تعالیٰ) کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا(اور) بار بار رحم کرنے والا ہے (شروع کرتا ہوں) لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍۙ۰۰۲ (اور اغراض کے علاوہ) قریش کے دلوں کو مانوس کرنے کے لئے، اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّيْفِۚ۰۰۳ یعنی ان کے دلوں کو گرمائی اور سرمائی سفروں سے مانوس کرنے کے لئے (ہم نے ابرہہ کو تباہ کیا) حلّ لُغات۔لِاِیْلٰف۔لِاِیْلٰف میں جو لام آتا ہے یہ بتاتا ہے کہ اس کا کوئی متعلق محذوف ہے۔عربی زبان میں حروف کے ساتھ کلمے شروع نہیں ہوا کرتے بلکہ یا تو فعل سے کلمہ شروع ہوتا ہے یا اسم سے شروع ہوتا ہے۔مثلاً کہیں گے ذَھَبَ زَیْدٌ زید گیا یا کہیں گے زَیْدٌ ذَاھِبٌ زید جانے والا ہے۔پس عربی زبان میں یا تو فعل