تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 366 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 366

ہم کہیں گے ثبوت تیرے پاس ہونا چاہیے۔اس کے سچا ہونے کی تو یہی سب سے بڑی دلیل ہے کہ زندگی کا ایک لمبا تسلسل بتا رہا ہے کہ یہ ہمیشہ سچ بولتا ہے۔یہی وہ دلیل ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دعویٰ نبوت کے وقت قوم کے سامنے پیش کی۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت دعویٰ نبوت فرمایا تو کسی نے کہا پاگل ہو گیا ہے کسی نے کہا جھوٹ بولتا ہے، کسی نے کہا اس پر جادو کیا گیا ہے، کسی نے کہا بتوں کی ناراضگی کی اسے سزا ملی ہے، غرض عجیب عجیب قسم کی باتیں آپ کے متعلق مشہور ہونے لگیں۔جب ان باتوں کا چرچا ہوا تو ایک دن آپ نے تمام مکہ والوں کو جمع کیا اور ان کےسامنے کھڑے ہو کر ایک تقریر کی جس میں فرمایا کہ تم میرے رشتہ دار ہو، مجھے دیر سے جانتے ہو، میری عادات سے اچھی طرح واقفیت رکھتے ہو تم یہ بتاؤ کہ کیا میں نے کبھی جھوٹ بولا ہے؟ ان سب نے متفقہ طور پر کہا کہ ہرگز نہیں آپ ہمیشہ سچ بولتے ہیں اور ہم سب اس بات کے گواہ ہیں کہ آپ کی راستبازی مسلّم ہے اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صداقت شعاری کا اثر ان سے منوانے کے لئے ایک اور بات کہی۔بعض جگہیں ایسی ہوتی ہیں جہاں جنگل ہوتا ہے اور ان میں اگر کوئی لشکر چھپنا چاہے تو بڑی آسانی سے چھپ سکتا ہے۔لیکن بعض ایسے چٹیل میدان ہوتے ہیں کہ ان میں چھپنے کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔دور دور تک آدمی دکھائی دیتا ہے۔مکہ کے اردگرد بھی ایسی جگہ ہے۔اس میں کوئی بڑا لشکر چھپ نہیں سکتا۔جب مکہ والوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ آپ کو راست باز پایا ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم مجھے یہ بتاؤ کہ اگر میں یہ کہوں کہ اس پہاڑی کے پیچھے ایک بہت بڑا جرّار لشکر تم پر حملہ کرنے کے لئے چھپا بیٹھا ہے تو کیا تم میری اس بات کو تسلیم کر لو گے؟ یہ ایک ایسی بات تھی جو قطعی طور پر ناممکن تھی اگر کوئی لشکر مکہ پر حملہ کرنے کے لئے آئے تو وہ اس پہاڑی کے پیچھے چھپ ہی نہیں سکتا مگر باوجود اس کے کہ یہ بات بالبداہت ناممکن تھی انہوں نے کہا ہاں اگر آپ یہ کہیں گے کہ اس پہاڑی کے پیچھے ایک لشکر چھپا بیٹھا ہے تو باوجود اس کے کہ ہماری آنکھیں اس کو نہیں دیکھتی ہوں گی ہم آپ کی بات کو درست تسلیم کرلیں گے۔یہ آپ کی صداقت کی کتنی زبردست دلیل ہے جس کا مکہ والوںنے اپنی زبان سے اقرار کیا کہ اگر ایک ناممکن اور نظر نہ آنے والی بات بھی آپ بیان کریں گے تو ہم اسے ضرور مان لیں گے۔ہم اپنی آنکھوں کو جھوٹا قرار دیں گے مگر آپ کی بات کو تسلیم کر لیں گے جب انہوںنے اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صداقت اور آپ کی راست بازی کا علی الاعلان اقرار کیا تورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میری صداقت پر تمہیں ایسا ہی یقین ہے تو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ خدا نے مجھے یہ کہا ہے کہ میں اس کا رسول ہوں اور اس نے مجھے حکم دیاہے کہ میں تمہیں ڈراؤں اور تمہیں بتوں کی پرستش سے روکوں اگر تم میری بات نہیں مانو گے تو تباہ ہو جاؤ