تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 365
خانۂ کعبہ کو گرانے کے لئے بڑھا تو مکہ کے سردار نے اسے کہہ دیا کہ ہمارے ہاں یہ روایت چلی آتی ہے کہ اگر کسی نے اس گھر پر حملہ کیا تو وہ تباہ ہو جائے گا۔اس لئے تم اس ارادہ کو ترک کر دو مگر وہ پھر بھی باز نہ آیا اور آخر وہی کچھ ہوا جو مکہ کے سردار نے اسے کہاتھا اور جس کے متعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے پیشگوئی چلی آتی تھی یعنی وہ مارا گیا اور اس کا لشکر تباہ ہو گیا۔اس تمام واقعہ کو دیکھتے ہوئے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ بادی النظر میں یہ کیس مکہ والوں کے حق میں جاتا ہے۔پس اب ہمارا فرض نہیں کہ ہم یہ ثابت کریں کہ یہ اتفاقی حادثہ نہیں تھا۔بلکہ عیسائیوں کا فرض ہے کہ اگر وہ اسے اتفاقی حادثہ قرار دیتے ہیں تو ثابت کریں کہ یہ کس طرح اتفاقی حادثہ ہے۔دو ہزار سال سے خانۂ کعبہ کی حفاظت کے متعلق ایک پیشگوئی تھی وہ پیشگوئی ابرہہ کو یاد کرا دی گئی مگر اس نے اپنے ارادہ کو ترک کرنے سے انکار کیا اور فیصلہ کیا کہ میں ضرور اس گھر کو گراؤں گا۔جب اس نے یہ فیصلہ کر لیا تو ابھی اس نے خانۂ کعبہ کو گرانے کے لئے ایک قدم بھی نہیں اٹھایا تھا کہ خدا کا عذاب اس پر نازل ہو گیا اور وہ نہایت ذلیل اور مقہور ہو کر مرا۔اس دو ہزار سالہ پیشگوئی کو سننے اورپھر اس پیشگوئی کو سب کے سامنے پورا ہوتے دیکھنے کے بعد ہم پر یہ کس طرح فرض ہو گیا کہ ہم یہ ثابت کریں کہ یہ اتفاقی حادثہ نہیں تھا۔یہ عیسائیوں کا فرض ہے کہ وہ اسے اتفاقی حادثہ ثابت کریں اور اپنی دلیل ہمارے سامنے پیش کریں۔اگر ان کی دلیل ہمارے سامنے آئے گی تب ہمارا فرض ہو گا کہ ہم اس کو توڑیں لیکن جب تک ان کی دلیل ہمارے سامنے نہیں آتی بار ثبوت بہرحال عیسائیوں کے ذمہ ہے۔دوسرا جواب یہ ہے کہ جو چیز ایک تسلسل میں واقعہ ہو وہ چیز خود اپنی ذات میں اپنی صداقت کا ثبوت ہوتی ہے اگر ایک زنجیرہو تو یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ زنجیر کا حق مقدّم ہوتا ہے کڑی کا حق مقدّم نہیں ہوتا کیونکہ کڑی بہرحال زنجیر کے تابع ہوتی ہے۔ایک شخص کے متعلق اگر ہمارے پاس یہ ثبوت موجود ہے کہ وہ دس سال سے برابر سچ بولتا چلا آرہا ہے کوئی شخص کہتاہے کہ اسے نو سال سے برابر سچ بولتے دیکھ رہا ہوں، کوئی شخص کہتا ہے کہ میں اسے آٹھ سال سے برابر سچ بولتے دیکھ رہا ہوں کوئی شخص کہتا ہے کہ میں اسے سات سال سے برابر سچ بولتے دیکھ رہا ہوں تو یہ تسلسل خود اپنی ذات میں اس کے راستباز ہونے کا ثبوت ہو گا۔اگر کوئی شخص ہمارے پاس آئے اور اس کے متعلق کہے کہ وہ جھوٹ بولتا ہے تو بادی النظر میں وہ بات سچی سمجھی جائے گی جو دس سال سے ثابت ہے۔وہ بات سچی نہیں سمجھی جائے گی جو نئی پیش کی جارہی ہے اور دس سال کے تجربہ کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے ہم دوسرے شخص کو اس الزام سے بری قرار دیں گے ہاں الزام لگانے والے سے ہم یہ ضرور کہیں گے کہ اگر تمہیں اپنے الزام پر اصرار ہے تو تم اس کا ثبوت لاؤ۔وہ اگر کہے کہ ثبوت اسے پیش کرنا چاہیے کہ اس نے جھوٹ نہیں بولا تو ہر شخص الزام لگانے والے کو احمق قرار دے گا۔