تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 367

گے۔اس پر وہی لوگ جو ابھی چند منٹ پہلے آپ کو راستباز کہہ رہے تھے ہنسی اور مذاق کرتے ہوئے منتشر ہو گئے۔اور کسی نے کہا جھوٹ بولتا ہے، کسی نے کہہ دیا پاگل ہو گیا ہے، کسی نے کہہ دیا دماغ خراب ہو گیا ہے۔لیکن یہی واقعہ تم کسی معقول انسان کے سامنے رکھو تو وہ کیا کہے گا؟ وہ انہی لوگوں کو پاگل قرار دے گا جو ابھی آپ کو راست باز قرار دے رہے تھے اور ابھی آپ کو جھوٹا قرار دینے لگے۔غرض واقعات کے تسلسل کی زنجیر بالبداہت تسلیم شدہ ہوتی ہے اور اگر کوئی اس کے خلاف بات کہتا ہے تو اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ دلیل لائے دوسرے کا فرض نہیں ہوتا کہ اس کی بات کو توڑے۔دو ہزار سال سے عربوں کا یہ دعویٰ تھا کہ خانۂ کعبہ خدا کا گھر ہے اور وہ اس کی آپ حفاظت کرے گا۔عربوں کے اس دعویٰ کے متعلق تم کہہ لو کہ یہ ایک وہم تھا، شک تھا، وسوسہ تھا، بے دینی تھی، کفر تھا لیکن بہرحال جو کچھ بھی تھا عرب کہتے تھے کہ خانۂ کعبہ محفوظ رہے گا اور دو ہزار سال سے زنجیر کی یہ کڑی مسلسل چلی آتی تھی اور لوگ اسی ڈر کے مارے خانۂ کعبہ پر حملہ نہیں کرتے تھے۔جب دو ہزار سال گذر جاتے ہیں تو ایک شخص اٹھتا اور خانۂ کعبہ پر حملہ کرتا ہے اور وہ حملہ کرنے والا زندہ نہیں رہتا بلکہ بری طرح تباہ ہوجاتا ہے۔ایسی صورت میں جبکہ اس واقعہ کا تسلسل دو ہزار سال سے ثابت ہے یقیناً ہر شخص عربوں کے دعویٰ کی ہی تصدیق کرے گا۔اگر کوئی کہتا ہے کہ یہ واقعہ جو ایک لمبی زنجیر کی ایک کڑی نظر آرہا ہے اصل میں اس زنجیر کی کڑی نہیں کسی اور زنجیر کی کڑی ہے یا ایک بے تعلق کڑی ہے۔تو بارثبوت اس کے ذمہ ہے لیکن جہاں تک اس زنجیر کے تسلسل کا سوال ہے اس کے لحاظ سے ماننا پڑتا ہے کہ مکہ والوں نے اس بارہ میںجو دعویٰ کیا تھا وہ بالکل صحیح اور درست تھا اور واقعات نے بھی ان کے دعویٰ کی تصدیق کر دی۔اب اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ یہ ایک اتفاقی حادثہ تھا تو اس کا فرض ہے کہ وہ دلیل لائے مسلمان کا فرض نہیں کہ وہ اس کے اتفاقی حادثہ نہ ہونے کےد لائل دے۔بہرحال پیشگوئی کے لحاظ سے بھی اور واقعاتی زنجیر کے لحاظ سے بھی مکہ والوں کا دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے۔اگر کوئی شخص اس کے خلاف کہتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ دلیل لائے مگر وہ دلیل نہ وہیری نے پیش کی ہے اور نہ کسی اور عیسائی پادری نے پیش کی ہے۔دوسری بات اس بارہ میں یہ کہی جا سکتی ہے کہ یہ اتفاقی واقعہ تو نہیں تھا۔تھا تو یہ ایک نشان ہی مگر خدا کو یہ نشان مسیحیوںکے خلاف نہیں دکھانا چاہیے تھا بلکہ مسیحیوں کی تائید میں دکھانا چاہیے تھا۔چونکہ یہ نشان مسیحیوں کے خلاف دکھایا گیا ہے اس لئے ہم اسے تسلیم نہیں کر سکتے۔یہ بھی بالکل پاگل پن کی بات ہو گی اگر خدا نے یہ نشان دکھایا ہے تو یقیناً ہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ وہیری کی عقل سے بہرحال خدا تعالیٰ کی عقل مقدّم ہے اگر وہ اسے خدا تعالیٰ کا نشان سمجھنے کے باوجود یہ کہتا ہے کہ خدا نے مسیحیوں کے خلاف یہ نشان کیوں دکھایا اسے تو مسیحیوں کی تائید میں