تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 364
ہے کہ میرے دو سو اونٹ مجھے واپس دے دیئے جائیں یہ مطالبہ میں نے کیوں کیا اس لئے کہ میں دو سو اونٹ کا مالک ہوں۔پس میں نے اس سوال سے ہی تم کو یہ بتایا ہے کہ مالک کو اپنی چیز کی پروا ہوتی ہے اور وہ اس کا ضائع ہونا برداشت نہیں کر سکتا۔میرا عقیدہ یہ ہے کہ خانۂ کعبہ خدا کا گھر ہے اور وہی اس کا مالک ہے اگر اپنے اونٹوں کے لئے میں تمہارے در پر سوالی بن کر آگیا ہوں تو کیا تم سمجھتے ہو کہ خدا کو اپنے اس گھر کی پروا نہیں ہو گی۔اگر وہ اس گھر کا مالک ہے تو جس طرح مجھے اپنے اونٹوں کی فکر ہے اسی طرح اسے بھی اس گھر کی فکر ہو گی اور وہ اسے تمہارے حملہ سے ضرور بچائے گا۔اس جگہ حضر ت عبدالمطلب نے اپنی بات کو حق بجانب ثابت کرنے کے لئے یہی دلیل دی ہے کہ ہمارا عقیدہ خانۂ کعبہ کے متعلق یہ ہے کہ یہ خدا کا گھر ہے اور اس نے آپ اس گھر کو بچانے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔اگر ہمارا یہ عقیدہ درست ہے تو پھر اگر تم نے خانۂ کعبہ پر حملہ کیا تو وہ تمہیں ضرور تباہ کر دے گا۔یہ واقعہ اپنی ذات میں اس بات کا ثبوت ہے کہ خانۂ کعبہ کی حفاظت کا وعدہ دو ہزار سال سے چلا آرہا تھا اور عرب لوگ اس بات کے مدعی تھے کہ جو شخص اس گھر پر حملہ کرے گا وہ تباہ ہو جائے گا(تاریخ الطبری ذکر بقیۃ خبر تبع ایام قباذ)۔اس دعویٰ کے بائیس سو سال بعد ایک شخص اٹھتا اور بیت اللہ پر حملہ کرتا ہے ایک بہت بڑا لشکر اس کے ساتھ ہے تمام قسم کے ساز و سامان سے وہ مسلّح ہے، اسے اپنی طاقت پر بہت بڑا ناز ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ خانۂ کعبہ کو گرانا کوئی مشکل کام نہیں مگر باوجود ان تمام باتوں کے وہ اور اس کا لشکر ایسی بری طرح تباہ ہوتے ہیں کہ دنیا ان کو دیکھ کر عبرت حاصل کرتی ہے کون شخص ہے جو اس واقعہ کو اتفاقی قرار دے سکے کیا دو ہزار سال سے عربوں کا یہ دعویٰ کرنا کہ خانۂ کعبہ پر کوئی شخص حملہ نہیں کر سکتا اگر کرے گا تو مارا جائے گا۔اور دو ہزار سال میں صرف ایک شخص کا حملہ کرنا اور تباہ ہو جانا یہ اتفاق کہلا سکتا ہے۔بے شک اگر عربوں کا خانۂ کعبہ کے متعلق کوئی دعویٰ نہ ہوتا اور ابرہہ اور اس کا لشکر تباہ ہو جاتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ یہ ایک اتفاقی امر ہے۔وہ حملہ کے لئے آئے تھے مگر ان میں ایک بیماری پھوٹ پڑی اور وہ مر گئے۔لیکن دو ہزار سال سے مکہ والوں کا ایک دعویٰ کرنا اور نسلاً بعد نسلٍ اس عقیدہ پر قائم رہنا اور پھر جب ابرہہ اپنا لشکر لے کر آیا تو ان کا ابرہہ کے سامنے بھی اس پیشگوئی کا اعلان کر دینا اور پھر اس پیشگوئی کے عین مطابق اس کا مارا جانا یہ سب کچھ اتفاق کس طرح ہو گیا؟ دنیا میں قاعدہ ہے کہ جب کبھی کوئی کیس سامنے آئے اس کے متعلق سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ بادی النظر میں سچا ہے یا جھوٹا۔یا پہلا اثر انسانی طبیعت پر کیا پڑتا ہے اور اس کے متعلق کون سے نتائج ہم فوری طو رپر حاصل کر سکتے ہیں۔اس نقطۂ نگاہ سے اگر دیکھا جائے تو مکہ والوں کی طرف سے دو ہزار سال سے یہ کہا جا رہا تھا کہ اگر خانۂ کعبہ پر کوئی شخص حملہ کرے گا تو وہ تباہ ہو جائے گا۔اور جب دو ہزار سال کے بعد ایک دشمن اٹھا اور اپنا لشکر لے کر