تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 29
بادشاہ تھا اور اب بھی ہے (اس درس کے چھپنے سے پہلے وہ بھی نہیں رہا )ہنگری کا بادشاہ تھا اب نہیں۔روس کا بادشاہ تھا اب نہیں۔یونان کا بادشاہ تھا اب بھی ہے۔یوگوسلاویہ کا بادشاہ تھا اب نہیں۔رومانیہ کا بادشاہ تھا اب نہیں۔بلغاریہ کا بادشاہ تھااب نہیں۔زیکو سلویکیا پہلے جرمنوں کے ماتحت تھا اب اتحادیوں کے قبضہ میں آیا ہے مگر وہاں بادشاہت نہیں۔اس کے بعد ہم ایشیا کی طرف آتے ہیں تو ہمیں دکھائی دیتا ہے کہ ٹرکی کا بادشاہ تھا اب نہیں۔ایران کا بادشاہ تھا اب بھی ہے۔عراق میں بھی بادشاہت ہے شام اور فلسطین اور لبنان یہ علاقے بادشاہتوں کے ماتحت تھے مگر اب ان کے قبضہ سے نکل گئے ہیں۔افغانستان میں نام کی بادشاہت باقی ہے۔یہی حال ہندوستان کا ہے کہ اس کی بادشاہت بھی برائے نام ہے۔چین کا بادشاہ ہوا کرتا تھا اب اڑ گیا ہے۔کوریا کا بادشاہ تھا مگر اب اڑ گیا ہے۔جاپان کا بادشاہ ہے مگر اب اتحادی اس کو اڑانے کی فکر میں ہیں۔گویا دنیا میں تین چوتھائی بادشاہتیں اڑ چکی ہیں اور جو باقی ہیں وہ برائے نام ہیں جیسے انگلستان کا بادشاہ تو ہے مگر نام کا، اس کے اختیارات کچھ نہیں۔پس فرماتا ہے زمین اس دن اپنے بوجھ اتار کر پھینک دے گی۔یعنی بادشاہتوں اور حکومت امراء کو نکال باہر کرے گی اور اس طرح اس نا قابل برداشت بار کا خاتمہ ہو جائے گا جو غرباء پر پڑ رہا تھا۔(۲) دوسرے معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ مولویوں،پادریوں اور پنڈتوں کے دبائو سے لوگ آزاد ہو جائیں گے۔مولویوں کا دبائو بے شک حکومتی دبائو کی طرح زیادہ سخت نہیں تھا مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مولویوں کے فتووں کی لوگوں کے دلوں میں عزت ہوتی تھی اور وہ بسا اوقات ان کے لئے بڑی بڑی قربانیاںکرنے کے لئے تیار ہوجاتے تھے مگر اب مولویوں کا دبائو بالکل اٹھ چکا ہے۔یہی حال پنڈتوں کا ہے پنڈت جس جس رنگ میں کفارے دلواتے اور لوگوں کو گنگا اشنان کراتے تھے وہ اب جا تارہا ہے۔اسی طرح پادریوں کا دبائو اب خاک میں مل چکا ہے۔درحقیقت حقیقی دبائو پادریوں کا ہی تھا مولویوں اور پنڈتوں کو اس قسم کا اقتدار حاصل نہیں ہوا جس قسم کا اقتدار پادریوں کو حاصل ہو چکا ہے۔اُن کو ہر جگہ حکومت حاصل تھی،وہ لوگوں کو سزا دینے کا اختیار رکھتے تھے یہاں تک کہ لوگوں کو قید یااُن کو قتل کر دینے کا اختیار بھی ان کو حاصل تھا اورانہوں نے عوام پر وہ حکومت کی ہے کہ جس کی کوئی حد ہی نہیں مگر آج یہ سب چیزیں اڑائی جا رہی ہیں۔(۳) تیسرے معنے اَثْقَالَ کے ظاہری زمین کے لحاظ سے یہ بنیں گے کہ زمین میں سے قسم قسم کی کانیں نکل آئیں گی۔چنانچہ دیکھ لو آج کروڑوں کروڑ ٹن مٹی کا تیل جس کا پہلے زمانہ میں خیال بھی نہیں کیا جا سکتا تھا زمین میں سے نکل رہا ہے اور ہر شہر، ہر قصبہ اور ہر گائوں میں اس سے کام لیا جا رہا ہے۔تمام دنیا میں چکر لگا کر دیکھ لو ہر جگہ لیمپ