تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 30

مٹی کے تیل سے ہی جگمگاتے نظر آئیں گے سوائے ان مقامات کے جہاں بجلی کی روشنی مہیا کی جاتی ہے۔پہلے زمانہ میں عام طور پر سرسوں کا تیل دئے میں ڈال کر روشنی حاصل کی جاتی تھی مگر اب کہیں بھی سرسوں کا تیل استعمال نہیں ہوتا سب جگہ مٹی کا تیل استعمال کیا جاتا ہے۔اسی طرح کار خانے وغیرہ مٹی کے تیل سے چلتے ہیں۔پٹرول جس سے موٹریں چلتی ہیں وہ بھی زمین میں سے ہی نکلتا ہے۔پھر پتھر کا کوئلہ جس سے انجن،ریلیں اور مشینیں وغیرہ چلتی ہیں یہ بھی زمین میں دبا پڑا تھا اسی زمانہ میں اﷲ تعالیٰ نے اسے نکالا اور بڑی بڑی فیکٹریوں اور کار خانوںمیں کام آنے لگا۔اسی طرح اور کئی قسم کی دھاتیں مثلاً یورینیم،پلاٹینم اور ریڈیم وغیرہ زمین میں چھپی پڑی تھیں اور لوگوں کو ان کا کچھ علم نہیں تھا۔آج بہت سے کام ان کے ذریعہ سے چل رہے ہیں۔اور ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ زمین نے آج اپنے بوجھ باہر نکال کر پھینک دیئے ہیں۔(۴)آثار قدیمہ جو زمین میں چھپے پڑے تھے وہ بھی اثقال تھے اور امانت کا رنگ رکھتے تھے جسے زمین نے اپنے پیٹ میں دبایا ہوا تھا مگر آج یہ اثقال بھی باہرنکل رہے ہیں۔بڑے بڑے شہر جو آج سے کئی کئی ہزار سال پہلے کے ہیں زمین میں سے نکل رہے ہیں کوئی شہر زمین میں نو۹۰ے فٹ نیچے مدفون تھا کوئی اَ۸۰سی فٹ نیچے تھا اور لوگوں کو کچھ علم نہ تھا کہ وہ زمین جس پر وہ چل پھر رہے ہیں اس کے نیچے کتنے بڑے بڑے شہر چھپے ہوئے ہیں۔آج محکمۂ آثارِ قدیمہ زمین کو کھود کر ان تمام شہروں کو باہر نکال رہا ہے اور کئی قسم کی پرانی تہذیبوں کا لوگوں کو علم حاصل ہو رہاہے۔ان شہروں کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آج سے مثلاً دس ہزار سال پہلے برتن کیسے تھے۔کس قسم کے کپڑے لوگ پہنا کرتے تھے۔ان کے مکانوں کی کیا شکلیں ہوا کرتی تھیں۔سڑکوں کا کیسا انتظام تھا۔ان کی سواریاں کس کس قسم کی ہوتی تھیں۔ان کی گاڑیاں کیسی تھیں۔ان کے چھپر کھٹ کیسے تھے۔ان کے سامان کیسے تھے۔یہ ساری چیزیں زمین میں سے نکال کر آج دنیا کے سامنے لائی جا رہی ہیں بلکہ اور تو اور مردے بھی باہر نکالے جا رہے ہیں اور عجائب گھروں میں لوگ ان کا تماشہ دیکھتے ہیں۔غرض زمین کے نیچے جو چیزیں دبی ہوئی تھیں زمین نے ان کا بوجھ محسوس کیا اور اس نے ان تمام چیزوں کو باہر نکال کر کہہ دیا کہ لو میاں۔عطائے تو بہ لقائے تو (۵) اگر ارض سے اہل ارض مراد لئے جائیں تو اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَھَا کے یہ معنے ہوں گے کہ عیاشی،آزادی اور لامذہبی وغیرہ کے وہ خیالات جن کو پہلے زمانہ میں لوگ اپنے سینوں میں دبا کر رکھتے تھے اور ڈرتے تھے کہ اگر ہم نے ان خیالات کو ظاہر کیا تو گُدی سے ہماری زبان کھینچ لی جائے گی علی الاعلان ظاہر کریں گے۔ان کے