تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 28

لکھا ہے کُلُّ شَیْءٍ نَفِیْسٌ مَصُوْنٌ ہر اعلیٰ درجہ کی چیز جس کی حفاظت کی جائے اس کو عربی زبان میں ثِقْل کہتے ہیں مِنْہُ اِنِّیْ تَارِکٌ فِیکُمُ الثَّقَلَیْنِ الْقُرْاٰنُ وَ عِتْرَتِیْ۔اسی کے مطابق حدیث میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم میں اپنے ثقلین چھوڑ رہا ہوں۔اور وہ ثقلین کیا ہیں اَلْقُرْاٰنُ وَ عِتْرَتِیْ ایک ان میں سے قرآن ہے اور ایک میری عترت۔پھر لکھا ہے اَصْلُ الثِّقْلِ مَا یَکُوْنُ مَعَ الْاِنْسَانِ مِـمَّا یُثْقِلُہٗ اصل میں جو چیز انسان پر بوجھ ڈالنے والی ہو اسے ثقل کہتے ہیں اور اَلْاَثْقَالُ کے معنے ہیں کُنُوْزُ الْاَرْضِ زمین کے خزانے۔اَلْاَحْـمَالُ الثَّقِیْلَۃُ۔بھاری بوجھ۔مَوْتَاھَا۔مدفون اشیاء۔مُردے (اقرب) غرض ثِقْل کے معنے ہوئے۔(۱)بوجھ (۲) وہ قیمتی شے جس کی حفاظت کی جائے (۳) زمین کا خزانہ۔تفسیر۔جیسا کہ حل لغات میں بتایا جا چکا ہے ثِقْل کے معنے بوجھ کے بھی ہیں اور قیمتی شے کے بھی جس کی حفاظت کی جائے۔ان معنوں کے رُو سے اس آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ زمین کے اثقال پھینکنے کے چھ معنے اوّل۔زمین اپنے بوجھ اتار کر پھینک دے گی یعنی بادشاہتوں اور حکومت امراء کو جو غرباء پر ناقابلِ برداشت بوجھ ڈال رہے تھے نکال باہر کرے گی۔سب سے بڑا بوجھ دنیا میں ناواجب اور ظالمانہ حکومت کا ہی ہوتا ہے اس سے بڑا بوجھ دنیا میں اور کوئی نہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کئے ہیں کہ یہ بوجھ اس طرح اتار کر پھینکا گیا ہے کہ اس کا ہزارواں حصہ بھی پہلی تاریخ میں نظر نہیں آتا۔دنیا کے تمام ممالک بادشاہتوں کو توڑ رہے ہیں یا ان کو ناکارہ بنا رہے ہیں اور یہ ایک ایسی بات ہے جس کی پہلے زمانہ میں کوئی مثال ہی نہیں ملتی۔پہلے زمانہ میں کوئی ایک ملک بھی ایسا نظر نہیں آتا تھا جہاں بادشاہت نہ ہو سوائے چھوٹے چھوٹے قبائل کے کہ ان کے مالک بادشاہ نہیں کہلاتے تھے بلکہ رئیس کہلاتے تھے۔مگر اب دنیا کے اکثر حصوں سے بادشاہتوں کو کلیۃً اڑا دیا گیا ہے۔چنانچہ اگر ہم سر سری طور پر دنیا کو ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک دیکھ جائیں تو یہ حقیقت ہم پر پورے طور پر واضح ہوجاتی ہے مثلاً امریکہ کو لے لو۔نارتھ امریکہ میں کینیڈا پر فرانس کا بادشاہ حکومت کر رہا تھا اور سؤتھ امریکہ میں کچھ علاقوں پر پُرتگال کا بادشاہ حکومت کر رہا تھا اور کچھ علاقوں پر سپین کا بادشاہ حکومت کرتا تھا مگر اب ان تمام مقامات سے بادشاہتیں اُڑ گئی ہیں۔اس کے بعد یورپ میں آئیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ انگلستان کا بادشاہ تھا اب بھی ہے۔ناروے کا بادشاہ تھا اب بھی ہے۔سویڈن کا بادشاہ تھا اب بھی ہے۔ڈنمارک کا بادشاہ تھا اب بھی ہے۔ہالینڈ کا بادشاہ تھا اب بھی ہے بلجیئم کا بادشاہ تھا اب بھی ہے۔لیکن فرانس کا بادشاہ تھا اب نہیں۔سپین کا بادشاہ تھا اب نہیں۔پُرتگیزوںکا بادشاہ تھا اب نہیں۔جرمنی کا بادشاہ تھا اب نہیں۔اٹلی کا