تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 317
سب میں یہی رَو جاری تھی عرب اپنی مجالس میں بیٹھتے تو یہی ذکر کرتے کہ اب ابراہیمی وجود ظاہر ہونے والا ہے۔یہودی اپنی مجالس میں بیٹھتے تو یہی ذکر کرتے کہ ایسے آثار ظاہر ہورہے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ موسٰی کا مثیل آنے والا ہے۔اسی طرح عیسائی اپنی جگہ باتیں کرتے کہ مسیحؑ کی پیشگوئیاں پوری ہونے والی ہیں۔اصل میں تو یہ ایک ہی وجود تھا جس کی آمد کی مختلف قومیں منتظر تھیں مگر وہ سمجھتے یہی تھے کہ ہمارا موعود دوسری اقوام سے بالکل الگ ہوگا۔حالانکہ جس کی پیشگوئی ابراہیم ؑ نے کی تھی اسی کی پیشگوئی موسٰی نے کی تھی اور جس کی پیشگوئی موسٰی نے کی تھی اسی کی پیشگوئی ابراہیم ؑ اور عیسٰیؑ نے کی تھی اور جس کی پیشگوئی عیسیٰ ؑ نے کی تھی اسی کی پیشگوئی ابراہیمؑ اور موسٰی نے کی تھی۔وجود ایک ہی تھا مگر اپنی اپنی پیشگوئیوں کی وجہ سے ہر قوم کے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ ہمارا نبی آئے گا تو وہ دوسری اقوام کو مارنے کے لئے آئے گا۔جب عیسائی سنتے کہ یہودیوں کے دلوں میں بھی امیدیں پیدا ہو رہی ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی موعود آنے والا ہے جو ان کی قوم کو ترقی دے گا تو وہ اس امید کو تو درست سمجھتے تھے اور سمجھتے تھے کہ کوئی موعود ضرور آنےوالا ہے مگر وہ یہودیوں کے متعلق یہ سمجھتے تھے کہ یہ لوگ جھوٹے طو رپر ان امیدوں کے سہارے کھڑے ہو رہے ہیں ورنہ وہ موعود جو آنےو الا ہے ہمارا ہے۔اسی طرح مکہ والوں میں جب سے یہ احساس پیدا ہوا کہ دعائے ابراہیمی ؑ کے نتیجہ میں عرب میں کوئی پیغمبر مبعوث ہونے والا ہے تو گو عیسائی یہ تو سمجھتے تھے کہ آنےو الا ضرور آئے گا مگر وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ عرب قوم جو اس موعود کا انتظار کر رہی ہے یہ کوئی پولٹیکل چال ہے۔اور وہ ڈرتے تھے کہ اس پولٹیکل چال کے نتیجہ میں کوئی ایسا آدمی عرب میں نہ کھڑا ہوجائے جس کے پیچھے سارا عرب لگ جائے اور اس طرح حکومت کی باگ ڈور اس قوم کے ہاتھ میں آجائے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت سے کچھ عرصہ پہلے اور خود آپؑکے زمانہ میں بھی انگریز اور دوسرے یوروپین جہاں کسی شخص کے متعلق سنتے کہ اس نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو فوراً اس کے پیچھے دوڑ پڑتے حالانکہ انگلستان میں مثال موجود ہے۔امریکہ میں مثال موجود ہے کہ وہاں عیسائیوں میں سے بعض لوگوں نے مسیح ہونے یا مسیح کا پیشرو نبی ہونے کا دعویٰ کیا(اردو دائرہ معارف اسلامیہ زیر لفظ مہدی) مگر وہ اس پر برا نہیں مناتے تھے بلکہ خوش ہوتے تھے اور سمجھتے تھے کہ اگر تو یہ جھوٹا ہے تو ہمیں اس کی طرف توجہ کرنے کی کیا ضرورت ہے خود بخود تباہ ہوجائے گا اور اگر سچا ہے تو بہرحال اس سے عیسائی دنیا کو فتح ہو گی اور یہ ہمارے فائدہ کی بات ہے۔لیکن اگر مسلمانوں میں یہ احساس پیدا ہوتا کہ آنے والا موعود ہم میں آنے والا ہے تو وہ سمجھتے کہ یہ کوئی پولٹیکل چال ہے جو عیسائیت کو کمزور کرنے کے لئے اختیار کی جارہی ہے۔یہی احساس اس زمانہ کی عیسائیت میں تھا۔یہودیوں کے پاس چونکہ حکومت نہیں تھی اس لئے جب وہ سنتے کہ عرب بھی ایک موعود کا انتظار