تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 316

زمانہ میں میرا مثیل دنیا میں آئے گا اور وہ آتشی شریعت اپنے ہمراہ لائے گا(استثناء باب ۳۳ آیت ۱،۲)۔پس یہ امید کوئی نئی امید نہیں تھی بلکہ موسٰی کے زمانہ سے ہی انہیں یہ خبر مل چکی تھی۔مگر سوال یہ ہے کہ اس آنے والے موعود کے متعلق ان کے دلوں میں خلش اور تڑپ کیوں نہ داؤد ؑ کے وقت میں پیدا ہوئی؟ کیوں نہ سلیمانؑ کے وقت میں پیدا ہوئی؟ کیوں نہ زکریاؑ کے وقت میں پیدا ہوئی؟ کیوں نہ حزقیل کے وقت میں پیدا ہوئی؟ اس امید کی کسی قدر ابتدا مسیح کے وقت میں ہوئی ہے چنانچہ حضرت مسیحؑ سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ ہم آپ کو کیا سمجھیں کیا آپ مسیح ہیں یا ایلیاہ ہیں یا ’’وہ نبی‘‘ (یوحنا باب ۱ آیت ۱۹تا۲۱) گویا ’’وہ نبی‘‘ کی آمد کا احساس کسی قدر حضرت مسیحؑ کے زمانہ میں پیدا ہو چکا تھا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ احساس بہت ہی تیز ہو گیا تھا اور یہ الٰہی سنت اور دستور ہے کہ جب کسی موعود نے آنا ہو تو اس کی آمد سے پہلے ہی طبائع میں ایک عام احساس اس کے متعلق پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے اور لوگوں کی انگلیاں اس کی طرف اٹھنے لگتی ہیں۔پس میں نے اس سورۃ پر جو کچھ غور کیا ہے اس کے لحاظ سے میری تحقیقات یہی ہے کہ اس زمانہ میں لوگوں کےدلوں میں آنے والے موعود کے متعلق ایک جستجو شروع تھی اور وہ سمجھتے تھے کہ کوئی ظہور ہونے والا ہے۔یہ جستجو عربوں کے دلوں میں بھی تھی کیونکہ حضرت ابراہیمؑ نے یہ پیشگوئی کی تھی کہ مکہ میں ایک نبی مبعوث ہو گا یہ جستجو یہودیوں کے دلوں میں بھی تھی کیونکہ موسٰی نے یہ کہا تھا کہ میری مانند ایک نبی کھڑا کیا جائے گا۔یہ جستجو عیسائیوں کے دلوں میں بھی تھی کیونکہ مسیحؑ نے یہ کہا تھا کہ میرے دوبارہ آنے سے پہلے ایک روح کامل آئے گی جو تمام سچائیوں کو ظاہر کرے گی (یوحنا باب ۱۶ آیت ۱۲،۱۳)۔پس عیسائیوں کو اللہ تعالیٰ کی ایک روح کامل کے ظہور کی امید تھی۔عربوں کو یہ امید تھی کہ عرب کا پیغمبر آئے گا اور یہودیوں کو یہ امید تھی کہ موسٰی کا مثیل آنے والا ہے (استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸)۔اور یہ رَو اس قدر چلی کہ ہر قوم بڑے جوش سے اس امید کا اظہار کرتی بلکہ فخر کرتی کہ ہمارا نبی آئے گا تو وہ ہمارے دشمنوں سے بدلہ لے گا۔جیسے اس زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ اور انگلستان میں بہت سے ایسے لوگ گذرے ہیں جنہوں نے مسیحیت کا دعویٰ کیا یا اعلان کیا کہ ہم مسیحیت کو غلبہ دینے کے لئے آئے ہیں۔اسی طرح مسلمانوں میں کئی لوگ ایسے پیدا ہو گئے جو مہدویت کے مدعی تھے کیونکہ مسیح اور مہدی کے ظہور کا زمانہ آگیا تھا اور دنیا میں اس کے متعلق ایک عام رَو چل رہی تھی۔جس طرح بارش سے پہلے ہوائیں چلتی ہیں اور وہ اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ اب بادل آنے والا اور آسمان سے پانی برسنے والا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے ماموروں کے آنے سے پہلے زمین میں ایک عام حرکت پیدا ہو جاتی ہے اور کئی لوگ ماموریت کے مدعی بن جاتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے عیسائیوں اور یہودیوں اور عربوں