تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 318
کررہے ہیں جس کے متعلق وہ سمجھتے ہیں کہ وہ عربوں میں سے ہو گا۔یا عیسائی بھی ایک موعود کا انتظار کر رہے ہیں۔جس کے متعلق وہ سمجھتے ہیں کہ وہ عیسائیوں میں سے ہو گا۔تو وہ اپنے دلوں پر پتھر رکھ کر بیٹھ جاتے اور اندر ہی اندر پیچ و تاب کھانے لگتے۔وہ سمجھتے کہ ہمارے پاس حکومت نہیں ورنہ ہم ان لوگوں کو بتا دیں کہ ہم ان کے ان خیالات کو برداشت نہیں کر سکتے۔اسی طرح عرب بھی جب سنتے کہ یہودی اور عیسائی دونوں اس موعود کا اپنی اپنی اقوام میں انتظار کر رہے ہیں تو وہ بھی اپنے دلوں پر پتھر رکھ کر بیٹھ جاتے۔مگر عیسائیوں میں طاقت تھی اور وہ سمجھتے تھے کہ ہم اپنے زور سے اس بات کو مٹا سکتے ہیں۔جیسے اس زمانہ میں یوروپین اقوام کی حالت تھی کہ جب کوئی مسیحیت کا مدعی کھڑا ہوتا تو مسلمان تو اسے مار نہیں سکتے تھے حالانکہ مسلمان بھی اس کو اپنا رقیب سمجھتے تھے۔مگر جب عیسائی مسلمانوں میں سے کسی کو مہدویت کا مدعی پاتے تو فوراً اس کو مارنے کے لئے کھڑے ہو جاتے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جب عیسائی دیکھتے کہ عربوں میں یہ خیال پیدا ہو رہا ہے کہ آنے والا موعود عرب ہو گا اور یہودیوں میں یہ خیال پیدا ہو رہا ہے کہ آنےو الا موعود یہود میں سے ہو گا تو وہ رقابت کے احساس کے ماتحت مقابلہ کے لئے کھڑے ہو جاتے اور سمجھتے کہ یہ عیسائیت کو کمزور کرنے کی مخفی تدابیر اختیار کی جارہی ہیں انہی حالات کو دیکھ کر ابرہہ کو محسوس ہوا کہ عرب میں خانۂ کعبہ ایک ایسا مقام ہے جس کی وجہ سے سارا عرب اکٹھا ہو سکتا ہے۔ادھر وہ یہ بھی سمجھتا تھا کہ عربوں میں یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ ان کے بلند ہونےاور دنیا میں ترقی کرنے کا وقت آگیا ہے اور ابراہیمؑ کا موعود اب بہت جلد آنے والا ہے اور گو عیسائی ایسے مدعی کو جھوٹا ہی سمجھتے مگر بہرحال ان کے دل میں یہ ڈر پیدا ہو گیا کہ اگر جھوٹے طور پر بھی ان میں کوئی مدعی کھڑا ہوگیا تو بات خطرناک ہو جائے گی۔پہلے ہی ایک جتھہ بنانے کا ذریعہ ان لوگوں کے پاس موجود ہے یعنی سارے عرب خانۂ کعبہ کو مانتے ہیں اور اس کی عزت و تکریم کرتے اور اسے مقدس مقام تسلیم کرتے ہیں۔اگر وہ موعود بھی آگیا تو خانۂ کعبہ تو پہلے ہی ان کے اتحاد کا ذریعہ ہے اس موعود کے ذریعہ یہ اور بھی متحد ہو جائیں گے اور عرب میں سے عیسائی حکومت تباہ ہو جائے گی۔عرب میں عیسائیت کی حکومت ایک تو یمن میں تھی اور ایک مدینہ سے اوپر تھی یعنی شمالی عرب کا بہت سا حصہ روم کے بادشاہ نے فتح کیا ہوا تھا اور وہاں اس کی حکومت قائم تھی۔گویا فلسطین سے لے کر مدینہ سے ڈیڑھ دو سو میل اوپر تک تمام علاقہ عیسائی حکومتوں کے پاس تھا(المفصّل فی تاریخ العرب قبل الاسلام الفصل ۳۳ ساسانیوں و بیزنطیوں) اور یہی عرب کے متمدن علاقے تھے یا یمن متمدن علاقہ تھا جس میں غلّہ بھی پایا جاتا تھا، معادن بھی پائے جاتے تھے، اس کی تجارت بھی بڑی بھاری تھی اور یا شمالی علاقے متمدن تھے۔ان کی ایران کے ساتھ بھی تجارتیں تھیں اور روم کے ساتھ بھی تجارتی تعلقات تھے۔