تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 281

کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔گو ذکر اس میں پہلے زمانہ کا ہے مگر مقصود آخری زمانہ کی طرف اشارہ کرنا ہے۔قریبی ترتیب کے لحاظ سے اس سورۃ کا تعلق پہلی سورۃ سے یہ ہے کہ پہلی سورۃ میں یہ بتایا گیا تھا کہ وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ۔عیب چینیاں کرنے والے، دوسروں کو نقصان پہنچانے والے اور تکلیفیں دینے والے لوگ جو اپنے مال اور دولت پر گھمنڈ کرتے ہیں وہ تباہ اور برباد کئے جائیں گے۔یہ حکم تو عام تھا کیونکہ فرماتا ہے وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ۔ہر ایسے شخص پر عذاب آئے گا جو ہُـمَزَۃ اور لُمَزَۃ ہو گا لیکن مقصود اوّل اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ کے دشمن مالدار تھے، دولتمند تھے، ان کی بڑی بڑی تجارتیں تھیں، بڑی بڑی جائیدادیں تھیں، تمام ملکی اقتدار ان کے قبضہ میں تھا اور وہ اپنے مال و دولت اور رتبہ کی وجہ سے اپنے آپ کو بڑا سمجھتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ ان طاقتوں اور قوتوں کی وجہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھی کسی صورت میں بھی ان پر غالب نہیں آسکتے۔اللہ تعالیٰ نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے تمہارا یہ خیال کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم پر غالب نہیں آسکتے قطعی طور پر غلط اور بے بنیاد ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور غالب آئیں گے اور تم لوگ جو بڑے کہلاتے ہو اور مال و دولت کے غلط استعمال کی وجہ سے غریبوں کو ستاتے اور دکھ دیتے ہو ناکام و نامراد رہو گے۔غرض اس سورۃ میں یہ خبر دی گئی تھی کہ یہ لوگ بڑے دکھ میں مبتلا ہوں گے۔ان کی تباہی کامل ہو گی اور ان کا انجام نہایت دردناک ہو گا۔یہاں قدرتی طور پر سوال پیدا ہوتا تھا کہ ایسا کس طرح ہو گا۔عقل میں تو یہ نہیں آسکتا کہ بڑے بڑے مالدار، بڑے بڑے عقلمند، بڑے بڑے مدبر اور بڑی بڑی طاقتوں والے ہار جائیں اور کمزور جیت جائے۔جن کے پاس حکومت ہو وہ تو شکست کھا جائیں اور جو ہمسائیوں کے مظالم کا شکار ہو رہا ہو وہ فتح حاصل کر لے۔پس چونکہ یہ اعتراض پیدا ہوتا تھا کہ عقل اس بات کو نہیں مان سکتی۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں ایک ایسا واقعہ پیش کیا ہے جسے کوئی عقل نہیں مان سکتی تھی۔اس میں جو کچھ ہوا الٰہی تقدیر کے ماتحت ہوا اور عقل کے بالکل خلاف نتیجہ پیدا ہوا اور دنیا کو تسلیم کرنا پڑا کہ اس دنیا میں صرف وہی کچھ نہیں ہوتا جو عقل کے مطابق ہو بلکہ ایسے واقعات بھی رونما ہو جایا کرتے ہیں جو عقل کے خلاف ہوتے ہیں جیسا کہ اصحاب الفیل کا واقعہ ہے۔ایک بادشاہ نے جس کی بہت بڑی اور منظم حکومت تھی مکہ پر حملہ کیا۔مگر جیسا کہ آگے تفصیل آئے گی باوجود ساری طاقتوں اور قوتوں کے وہ ہار گیا اور مکہ کے لوگ جو بے سر و سامان تھے جیت گئے۔یوں تو ہُـمَزَۃ اور لُمَزَۃ ہرجگہ ہوتے ہیں مگر اس جگہ پہلے مخاطب مکہ کے ہُـمَزَۃ اور لُمَزَۃ ہی تھے اور انہیں کے متعلق یہ کہا گیا تھا کہ الَّذِيْ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗ۔يَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗۤ اَخْلَدَهٗ وہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ ہم مال و دولت کے زور سے غالب آجائیں