تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 282

گے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے مقابلہ میں ہار جائیں گے۔اللہ تعالیٰ ان مکہ والوں کو فرماتا ہے کہ تمہارے مکہ میں ایک مثال موجود ہے تم جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بڑا کہہ رہے ہو تمہیں یاد رکھنا چاہیے کہ تم سے بھی بڑے بڑے لوگ دنیا میں موجود تھے۔تم سے بھی بڑی بڑی حکومتیں دنیا میں موجود تھیں۔تم سے بھی بڑی بڑی طاقتیں دنیا میں موجود تھیں۔چنانچہ انہیں حکومتوں اور طاقتوں سے ایک نے مکہ پر حملہ کیا اور تم لوگوں نے بغیر مقابلہ کئے اس کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔لیکن مکہ چونکہ خدا کے ایک پیارے کا صدر مقام بننے والا تھا اور چونکہ وہ خدا تعالیٰ کی ایک پیاری جگہ اور اس کا مقدس مقام تھا۔اللہ تعالیٰ نے دشمن کے ارادوں کو باطل کر دیا اور اس کی تدبیروں کو توڑ کر رکھ دیا۔چنانچہ آخر مکہ ہی غالب رہا اور وہ بڑا طاقتور دشمن ناکام و نامراد رہا۔یہ مثال تمہارے سامنے موجود ہے عقل میں وہ بات بھی نہیں آتی تھی مگر آخر ہوا وہی جو اللہ تعالیٰ کا منشا تھا۔کیا اس مثال کو دیکھتے ہوئے اب بھی تمہاری سمجھ میں نہیں آتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن کے پاس کوئی مال نہیں، کوئی دولت نہیں، کوئی جتھہ نہیں، کوئی طاقت نہیں وہ کس طرح جیت جائیں گے اور مکہ والے جو طاقتور اور جتھہ والے ہیں ان کے مقابلہ میں کس طرح ہار جائیں گے۔تم اصحاب الفیل کے واقعہ کو مدّ ِنظر رکھو اور یہ سمجھ لو کہ جس طرح وہاں ہوا اسی طرح اللہ تعالیٰ اس موقع پر بھی اپنی قدرت کا زبردست نشان دکھائے گا۔اور تمہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں مغلوب کر دے گا۔سورۃ الفیل کا سورۃ ہمزہ سے دوسرا تعلق دوسرا تعلق اس سورۃ کا پہلی سورۃ سے یہ ہے کہ اس میں دلیل بالاولیٰ کے طور پر اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ خانۂ کعبہ مقصود بالذات نہیں تھا بلکہ خانۂ کعبہ ایک علامت تھی آنے والے کی۔ایک عظیم الشان انسان نے دعائے ابراہیمی کے ماتحت دنیا کی ہدایت کے لئے آنا تھا اور اس کے لئے ایک مرکز کی ضرورت تھی۔اسی کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس مقام کو مقدس قرار دیا اور اسے لوگوں کا مرجع بنا دیا مگر بہرحال یہ مقصود نہیں تھا۔مقصود وہی تھا جس نے دعائے ابراہیمی کے ماتحت ظاہر ہونا تھا اور جس کا کام یہ بتایا گیا تھا کہ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَ يُزَكِّيْهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ۔وہ خدا کی آیتیں انہیں پڑھ پڑھ کر سنائے گا۔ان کے دلوں کو پاک کرے گا۔انہیں احکام الٰہیہ کی حکمتیں سکھائے گا۔انہیں خدا تعالیٰ کی شریعت کے اسرار سمجھائے گا۔اور ان میں پاکیزگی اور طہارت پیدا کرے گا یہ انسان اصل مقصود تھا مکان اصل مقصود نہیں تھا۔مکان تو صرف ایک علامت تھی اصل اہمیت رکھنے والی وہ چیز تھی جو اس کے پیچھے تھی اور درحقیقت اگر ہم غور سے کام لیں تو ہمیں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ظاہری چیزیں اہمیت نہیں رکھتیں۔بلکہ اصل اہمیت اسی چیز کی ہوتی ہے جو ان چیزوں کے پیچھے ہوتی ہے