تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 280
سُوْرَۃُ الْفِیْلِ مَکِّیَّۃٌ سورۃ الفیل۔یہ سورۃ مکی ہے وَہِیَ خَـمْسُ اٰیَاتٍ دُوْنَ الْبَسْمَلَۃِ وَ فِیْـھَا رُکُوْعٌ وَّاحِدٌ اور اس کی بسم اللہ کے سوا پانچ آیتیں ہیں اور ایک رکوع ہے سورۃ الفیل مکی سورۃ ہے سورۃ الفیل مکہ میں نازل ہوئی ہے۔حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ یہ سورۃ مکی ہے(فتح البیان زیرسورۃ الفیل) اور مفسرین لکھتے ہیں کہ اس سورۃ کے مکی ہونے میں کوئی اختلاف نہیں۔مغربی مستشرقین کے نزدیک بھی یہ سورۃ مکی ہے۔جرمنی کا مشہور مستشرق نولڈکے اسے نہایت ابتدائی سورتوں میں سے قرار دیتا ہے اور سورۂ تکاثر کے زمانہ کی بتاتا ہے۔(A Comprehensive on The Quran by Wherry, vol:4 ) سورۃ الفیل کا تعلق سورۃ الھمزۃ سے اس سورۃ کا تعلق پہلی سورۃ سے ایک تو اس لمبے تعلق کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے ہے جس کا ذکر میں اس سے پہلے کی شائع شدہ تفسیر میں کر چکا ہوں۔یعنی قرآن کریم کی یہ آخری سورتیں سوائے چند آخری سورتوں کے باری باری اسلام کے ابتدائی زمانہ کے متعلق اور اسلام کے آخری زمانہ کے متعلق آتی ہیں۔ایک سورۃ میں اسلام کے ابتدائی زمانہ کا خصوصیت سے ذکر ہوتاہے اور دوسری سورۃ میں اسلام کے آخری زمانہ کا خصوصیت سے ذکر ہوتا ہے۔میری یہ مراد نہیں کہ جس سورۃ میں اسلام کے ابتدائی زمانہ کا ذکر آتا ہے اس میں آخری زمانہ کا ذکر نہیں ہوتا اور نہ یہ کہ جس سورۃ میں اسلام کے آخری زمانہ کا ذکر آتا ہے اس میں ابتدائی زمانہ کا ذکر نہیں ہوتا۔بالعموم دونوں ہی ذکر ہوتے ہیں۔لیکن خصوصیت کے ساتھ ایک سورۃ میں مدّ ِنظر اسلام کا ابتدائی زمانہ ہوتا ہے اور دوسری سورۃ میں خصوصیت کے ساتھ مدّ ِنظر اسلام کا آخری زمانہ ہوتا ہے۔پس یہ سورتیں خصوصیت کے لحاظ سے ابتدائی یا آخری زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں۔یہ نہیں کہ پہلے اور دوسرے زمانہ کا اکٹھا ذکر نہیں ہوتا۔بسا اوقات بڑے زور سے ہوتا ہے۔مگر وہ مقصود اوّل نہیں ہوتا۔مقصود اوّل صرف ایک ذکر ہوتا ہے اور یہ دور باری باری چلتا ہے۔اس لحاظ سے سورۃ الفیل آخری زمانہ کے متعلق معلوم ہوتی ہے یعنی اس میں خصوصیت کے ساتھ آخری زمانہ