تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 242

جائے کہ فلاں شخص اپنے نفس کو روک کر رکھتا ہے تو اس کے معنے عفت اور پاکیزگی کے ہوں گے وَفِیْ اِمْسَاکِ کَلَامِ الضَّمِیْـرِ کِتْـمَانٌ (اقرب)۔اسی طرح کبھی صبر کا لفظ اپنے دل کی بات کو ظاہر نہ کرنے کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔غرض اس لفظ کے کئی معنے ہیں۔صبر کے معنے جرأت اور بہادری کے بھی ہیں۔صبر کے معنے قناعت کے بھی ہیں۔صبر کے معنے عفت کے بھی ہیں اور صبر کے معنے رازداری کے بھی ہیں۔تفسیر۔عمل صالح اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ میں اللہ تعالیٰ نے انسانی اعمال کے متعلق ایک نہایت اہم نکتہ بیان کیا ہے جسے نظر انداز کرنے کی وجہ سے بسا اوقات لوگوں کو کئی قسم کی ٹھوکریں لگ جاتی ہیں۔دنیا میں عام طور پر یہ طریق ہے کہ لوگ بعض اعمال کو اچھا اور بعض کو برا قراردے دیتے ہیں اورپھر کوشش کرتے ہیں کہ جو اعمال ان کے نزدیک اچھے ہیں ان کو اختیار کریں اور جو اعمال ان کے نزدیک برے ہیں ان سے اجتناب کریں۔جن اعمال کو وہ اچھا سمجھتے ہیں ان کو اعمال صالحہ قرار دیتے ہیں اور جن اعمال کو وہ برا سمجھتے ہیں ان کو اعمال سیئہ کہتے ہیں۔حالانکہ عمل صالح کسی مخصوص عمل کا نام نہیں بلکہ ہر ایسا عمل جو مناسب حال ہو اور جو انسان کی روحانی یا جسمانی ضرورت کے مطابق ہو اس کو عمل صالح کہا جاتا ہے۔یہ قرآن کریم کی ایک بہت بڑی خوبی ہے کہ اس نے ان اعمال کے متعلق جو دین کے مطابق ہوتے ہیں ایک ایسی اصطلاح رکھی ہے جو اپنی ذات میں کامل ہے اور جس میں اس حقیقت کو واضح کردیا گیا ہے کہ کس عمل کو تم اچھا کہہ سکتے ہو اور کس کو برا۔باقی مذاہب بنی نوع انسان کو صرف اتنی تعلیم دیتے ہیں کہ تم اچھے اعمال بجالائو لیکن یہ نہیں بتاتے کہ اچھے اعمال کی تعریف کیا ہے۔اگر کسی سے پوچھا جائے کہ اچھے اعمال بتائو تو وہ فوراً کہہ دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا اچھا عمل ہے، روزہ رکھنا اچھا عمل ہے، غریبوں کی خدمت کرنا اچھا عمل ہے، صدقہ و خیرات دینا اچھا عمل ہے۔حالانکہ یہ مکمل جواب نہیں۔اسلام صرف نماز کو عمل صالح قرار نہیں دیتا، اسلام صرف روزہ اور زکوٰۃ اور صدقہ و خیرات کو عمل صالح قرار نہیں دیتا بلکہ اسلام کے نزدیک عمل صالح وہ عمل ہے جو مناسب حال ہو اور انسان کی روحانی یا جسمانی ضروریات کے مطابق ہو۔مثلاً روزہ رکھناکتنی بڑی نیکی ہے مگر روزہ رکھنا بھی کبھی اچھا ہوجاتا ہے اور کبھی برا۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص عید کے دن روزہ رکھتا ہے وہ شیطان ہے۔اگر روزہ رکھنا ہر حالت میں عمل صالح ہوتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیوں فرماتے کہ عید کے دن روزہ رکھنے والا شیطان ہوتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ روزہ اپنی ذات میں اچھا نہیں بلکہ اس وقت اچھا ہے جب خدا تعالیٰ کا حکم اس کے متعلق موجود ہو۔اسی طرح نماز بڑی اچھی چیز ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص ایسی حالت میں نماز پڑھتا ہے جب سورج اس کے سر پر ہو یا سورج کے طلوع اور اس کے غروب