تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 243

ہوتے وقت نماز پڑھتا ہے وہ شیطان ہے(مسند احـمد بن حنبل مسند الانصار حدیث ابی عـمامہ الباھلی)۔اگر نماز اپنی ذات میں عمل صالح ہوتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم طلوعِ آفتاب یا غروبِ آفتاب کے وقت نماز پڑھنے والے کو گناہ گار کیوں قرار دیتے یا اس وقت جب سورج سر پر ہو جو شخص نماز پڑھے اسے شیطان کیوں قرار دیتے۔مگر یہ تو ایسے احکام ہیں جن کی حکمتیں سب کو معلوم نہیں ہوتیں۔اتنی بات تو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا ایک نبی دشمن کے مقابلہ میں کھڑا ہو۔دشمن اپنے پورے زور سے حملہ کررہا ہو اور وہ نبی اور اس پر ایمان لانے والے دشمن کے حملہ کے دفاع میں مشغول ہوں تو ایسی حالت میں اگر کوئی شخص میدان جہاد کو چھوڑ کر ایک طرف مصلّٰی بچھا کر نماز شروع کردے تو ہر شخص اسے دیکھ کر کہے گا کہ وہ شیطان ہے۔اس وقت یہ نہیں کہا جائے گا کہ یہ شخص کتنا بڑانیک ہے مصلّٰی بچھا کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کررہا اور اس سے رو رو کردعائیںکررہا ہے۔بلکہ جو شخص بھی اسے دیکھے گا اسے منافق اور غدار قرار دے گا اورکہے گا کہ جو شخص جہاد کو چھوڑ کر ایک کونہ میں چھپ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کررہا ہے اور اسے اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ دشمن کا حملہ کتنا شدید ہے یا مسلمانوں کو اس وقت کتنے بڑے مصائب کا سامنا ہے۔وہ نمازی نہیں بلکہ اسلام کا دشمن اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والا ہے۔اسی طرح روزہ بڑی اچھی چیز ہے مگر ایک دفعہ جبکہ ایک جہاد کے موقعہ پر بعض صحابہؓ نے روزے نہ رکھے اور بعض نے رکھ لئے۔جنہوں نے روزے رکھے تھے وہ میدان میں پہنچ کر نڈھال ہوکر گرگئے اور جن کے روزے نہیں تھے وہ بڑی پھرتی سے جہاد کی تیاری کرنے لگ گئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نظارہ دیکھ کر فرمایا آج روزہ داروں سے بے روز بڑھ گئے (النسائی کتاب الصیام باب فضل الافطار فی السفر علی الصوم )۔اگر روزہ ہر حالت میں عمل صالح ہوتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیوں فرماتے کہ آج روزہ داروں سے بے روز بڑھ گئے۔آپ کا روزہ داروں پر غیرروزہ داروں کو ترجیح دینا صاف بتاتا ہے کہ روزہ رکھنا بھی بعض حالات میں عمل صالح ہوتا ہے اوربعض حالات میں عمل غیرصالح۔چونکہ جہاد میں طاقت اور ہمت کی ضرورت تھی اس لئے جن لوگوں نے اس دن روزہ نہ رکھا ان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ داروں سے زیادہ قابل تعریف سمجھا۔غرض عمل صالح کے معنے ایسے عمل کے ہوتے ہیں جس میں حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کو پوری طرح ملحوظ رکھا گیا ہو۔اگر ان حقوق کو ملحوظ نہ رکھا جائے توکوئی عمل عملِ صالح نہیں کہلاسکتا خواہ بظاہر وہ کتنا اچھا نظر آتا ہو۔دراصل اسلام یہ نظریہ پیش کرتا ہے کہ خالی عمل کوئی عمل نہیں بلکہ ہمیشہ کسی عمل کی خوبی یا اس کی برائی نسبتی طور پر دیکھی جاتی ہے۔بسا اوقات ایک عمل ایک وقت میں اچھا ہوتا ہے لیکن دوسرے وقت میں برا ہوجاتا ہے۔پس اس آیت میں عمل صالح کے معنی محض اچھے کام کے نہیں بلکہ ایسے کام کے ہیں جو نسبتی