تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 241

کے بھی ہیں یعنی ایسا امر جو وقت اورحالات کے مطابق ہو اور حق کے معنے عدل کے بھی ہیں اور حق کے معنے مال کے بھی ہیں اور حق کے معنے بادشاہت کے بھی ہیں اور حق کا لفظ اَلموْجُوْدُ الثَّابِتُ کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔یعنی وہ چیز جو حقیقی وجود رکھتی ہو اور دنیا میں قائم رہنے والی ہو۔اور حق کے معنے اَلْیَقِیْنُ بَعْدَ الشَّکِّ کے بھی ہیں یعنی شک کے بعد اگر کسی شخص کے دل میں یقین پید اہوجائے تو اس کو بھی حق کہا جاتا ہے۔اور حق کے معنے موت کے بھی ہیں۔اور حق کے معنے حزم اور احتیاط کے بھی ہیں اور حق اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے بھی ایک نام ہے(اقرب)۔اَلصَّبْـرُ۔اَلصَّبْـرُ: تَرْکُ الشِّکْوٰی مِنَ الْبَلْوٰی لِغَیْـرِ اللہِ لَا اِلَی اللہِ یعنی صبر مصیبت کے وقت شکایت کو چھوڑ دینے کا نام ہے۔لیکن یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ صبر کے مفہوم میں صرف اتنی بات شامل ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کے پاس شکوہ نہ کرے۔اگر اللہ تعالیٰ کے سامنے کوئی شخص اپنی شکایات بیان کرتا ہے تو یہ بات صبر کے خلاف نہیں۔چنانچہ لغت میں لکھا ہے فَاِذَا دَعَا اللہَ الْعَبْدُ فِیْ کَشْفِ الضُّـرِّ عَنْہُ لَا یُقْدَحُ یعنی جب کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کو پکارے اور اسے کہے کہ اے میرے رب میری فلاں مصیبت کو دور کردے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا اور یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس نے صبر کے خلاف حرکت کی(اقرب)۔وَفِی الْکُلِّیَّاتِ اَلصَّبْـرُ فِی الْمُصِیْبَۃِ۔ابوالبقا جو ایک بہت بڑے ادیب گذرے ہیں انہوں نے اپنی کتاب کلیات میں لکھا ہے کہ صبر کا لفظ جو عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور دوسروں سے کہا جاتا ہے کہ صبر کرو۔یہ صرف مصیبت کے وقت استعمال ہوتا ہے۔جب کسی حادثہ کے وارد ہونے پر دوسرے شخص سے کہا جائے کہ آپ صبر سے کام لیں تو اس کے معنے صرف اتنے ہوتے ہیں کہ آپ جزع فزع نہ کریں یا اللہ تعالیٰ کا شکوہ نہ کریںیا آہ و فغاں سے اپنی آواز بلند نہ کریں۔وَ اَمَّا فِی الْمُحَارَبَۃِ فَشَجَاعَۃٌ۔لیکن کبھی لڑائی کے لئے بھی صبر کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔اس وقت اس کے معنے شجاعت اور بہادری کے ہوتے ہیں۔وَ فِی اِمْسَاکِ النَّفْسِ عَنِ الْفُضُوْلِ فَقَنَاعَۃٌ وَعِفَّۃٌ۔اسی طرح صبر کا لفظ کبھی اِمْسَاکُ النَّفْس کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔یعنی اگر انسان اپنے نفس کو لغو اور فضول کاموں میں مبتلا ہونے سے روکے تو اس وقت بھی صبر کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے لیکن ا س کی دو قسمیں ہیں۔اگر مال کے متعلق یہ لفظ استعمال کیا جائے اور مراد یہ ہو کہ دوسرے نے بے جا طور پر اپنا مال صرف کرنے سے اجتناب کیا ہے تو ایسی صورت میں صبر کے معنے قناعت کے ہوں گے اور جب یہ کہا جائے گا کہ فلاں شخص بڑا صابر ہے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ بڑا قانع ہے۔اپنے مال کی حفاظت کرتا اور اسے بے جا طور پر صرف نہیں کرتا۔لیکن جب اخلاق کے متعلق یہ لفظ بولا جائے اور کہا