تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 238
اس کی نقل کرنا چاہے گی اور اس کی تقلید پر ہی اپنی تمام کامیابی کا دارومدار سمجھے گی۔سیاسی آزادی بالکل الگ چیز ہے اس آزادی کے معنے صرف اتنے ہی ہیں کہ ہم کو بھی ویسی ہی برتری مل جائے جیسے مغرب کو حاصل ہے۔ورنہ اس سیاسی آزادی کے بعد ہر قوم کے دل میں خواہش یہی پائی جاتی ہے کہ مجھے بھی مغرب کی طرح اقتدار حاصل ہو۔بہرحال اس وقت کوئی قوم ایسی نہیں ہوگی جو مغربی لوگوں کی گمراہی ثابت کرسکے صرف نبی کا وجود ہوگا جس پر ایمان لانے کی وجہ سے ایک جماعت نہایت اطمینان کے ساتھ یہ کہے گی کہ یورپ کے لوگ کہاں جیت سکتے ہیں۔جیتنا تو ہم نے ہے جو ایک نبی پر ایمان لائے ہیں۔گویا امید جو جیتنے کا ایک ہی ذریعہ ہوتا ہے صرف مومنوں کو نصیب ہوگا۔دوسری اقوام جو نہ مومن ہوں گی اور نہ مردِ مغرب کی ساتھی وہ حیران و پریشان ہوں گی۔نہ مردِ مغرب ان کو اپنے ساتھ شامل کرے گا اور نہ اس کی کمزوری اور گمراہی انہیں نظر آسکے گی۔اس لئے وہ سرگردان و حیران ہوں گی۔امیدکا کوئی پہلو انہیں نظر نہ آتا ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے بڑے بڑے لیڈر یورپ کے سامنے ہمیں اپالوجی APOLOGY کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ان میں یہ ہمت نہیں ہوتی کہ وہ کھلے اور واضح الفاظ میں مغرب کی برائی اس پر ظاہر کرسکیں۔سید امیر علی صاحب نے اپنی کتب میں یورپین مصنفین کے اعتراضات کا جواب دینے کی کوشش کی ہے مگر انہوں نے سب جگہ اپالوجی سے کام لیا ہے اور کہا ہے کہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ یورپین مصنفین کے اسلام کے خلاف اعتراضات درست ہیں مگر ہماری التجا صرف اس قدر ہے کہ اسلام کے متعلق زیادہ سخت رائے قائم نہ کی جائے کیونکہ اسلام ایسے زمانہ میں آیا تھا جب دنیا ابھی ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے تھی۔اس لئے اس کے کئی مسائل موجودہ زمانہ کی ضروریات کے لئے مکتفی نہیں ہوسکتے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپالوجی کو بالکل ردّ کرتے ہوئے کھلے الفاظ میں یورپین لوگوں پر ان کی گمراہی ثابت کی ہے اور بتایا ہے کہ اسلام نے جو کچھ کہا اس کا ایک ایک حرف درست ہے۔اس پر اعتراض کرنا خود اپنی حماقت کا ثبوت بہم پہنچانا ہے۔چنانچہ آج تک ہم دشمنوں کی طرف سے اسی وجہ سے گالیاں کھاتے ہیں کہ ہم نے آریوں پر بھی اعتراضات کئے۔ہم نے ہندوئوں پر بھی اعتراضات کئے۔ہم نے سکھوں پر بھی اعتراضات کئے۔ہم نے عیسائیوں پر بھی اعتراضات کئے۔ہم نے جینیوں اور بدھوں پر بھی اعتراضات کئے۔ہم نے زرتشتیوں پر بھی اعتراضات کئے۔ہم نے یہودیوں پر بھی اعتراضات کئے۔غرض کوئی مذہب اور فرقہ ایسا نہیں جس کی اسلام کے مقابلہ میں ہماری طرف سے گمراہی ثابت نہ کی گئی ہو اور ہم نے ان پر ایسے وزنی اعتراضات نہ کئے ہوں کہ جن کا جواب دینا ان کے لئے بالکل ناممکن ہے۔مگر بجائے اس کے کہ مسلمان ہمارے اس کام کی قدر کرتے انہوں نے الٹا ہمیں گالیاں دینا شروع کردیا