تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 237
لْعَصْـر سے مراد کامل عصر ہوگا اور کامل عصر وہی ہوتا ہے جس میں خدا تعالیٰ کا کوئی نبی لوگوں کی ہدایت کے لئے معبوث ہو۔پس فرماتا ہے اس وقت ایک قوم کی ایسی حالت ہوگی کہ وہ اپنے آپ کو ہی انسان سمجھے گی کسی اور کوانسان قرار دینے کے لئے تیار نہیں ہوگی مگر ہوگی گمراہ۔اور اس کی گمراہی کے ثابت ہونے کا دنیا کے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہوگا صرف روحانی طور پر یہ امر ثابت ہوسکے گا۔چنانچہ دیکھ لو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی بعثت کے بعد مغربی لوگوں کی گمراہی ثابت کرنا کون سا مشکل کام رہ گیا ہے ہم میں سے ہر شخص علی الاعلان کہہ سکتا ہے کہ اہل مغرب گمراہ ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کا ایک نبی آیا جسے ہم نے تو مان لیا مگر مغرب اس کا منکر ہے اس لئے ہم ہدایت پر ہیں اور وہ گمراہی پر۔مگر باقی مذاہب کس ذریعہ سے یورپ پر اپنی برتری ثابت کر سکتے ہیں۔وہ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ ہم مغرب پر فوقیت رکھتے ہیں یا ہمارے پاس تو ہدایت ہے لیکن مغرب کے پاس ہدایت نہیں۔وہ حیران و پریشان کھڑے ہیں اور ان کے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یورپ کی گمراہی ثابت کرسکیں۔اسلام زندہ باد یا غیرمذاہب مردہ باد کے فلک شگاف نعرے بلند کرنا کوئی مشکل امر نہیں جو شخص چاہے یہ نعرے بلند کرسکتا ہے۔مگر سوال تو یہ ہے کہ کیا مسلمانوں کے دلوں پر بھی اسلام کا اثر ہے یا محض زبان تک ان کے دعوے محدود ہیں؟ اگر کوئی شخص مسلمانوں کے حالات پر گہرا غور کرے تو اسے تسلیم کرنا پڑے گا کہ آج مسلمانوں پر اسلام کاکچھ بھی اثر نہیں۔وہ بظاہر اسلام زندہ باد کے نعرے بلند کرتے ہیں مگر چلتے یورپ کے پیچھے ہی ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم تو ہمیں تباہی سے نہیں بچا سکتی لیکن یورپ کی تقلید ہمیں بچاسکتی ہے۔اگر اس حصہ کو الگ کرلیا جائے جو سیاسی جدوجہد کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور یہ دیکھا جائے کہ سیاسی رنگ میں یورپ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد ایک مسلمان کیا بننا چاہتا ہے تو صاف طور پر دکھائی دیتا ہے کہ یورپ کی سیاسی غلامی سے آزاد ہونے کے بعد ایک مسلمان انگلستان کا چرچل تو بننا چاہتا ہے مگر وہ یہ نہیں چاہتا ہے کہ میں عرب کا ابوبکرؓ بن جائوں۔وہ یہ تو خواہش رکھتا ہے کہ میری گردن مغرب کے سیاسی دبائو سے آزاد ہوجائے مگر اس آزادی کے بعد اس کا مقصد ابوبکرؓ بننا نہیں یا عمرؓ اور عثمانؓ بننا نہیں بلکہ وہ چاہتا ہے کہ میں آزادی کے بعد انگلستان کا ایٹلی بنوں یا امریکہ کا ٹرومین بن جائوں یا روس کاسٹالن بن جائوں۔اس کی آنکھوں کے سامنے یورپین ممالک کی بااقتدار شخصیتیں یکے بعد دیگرے آتی ہیں اور وہ ایک سردآہ کھینچ کر کہتا ہے کہ کاش مجھے موقع ملے تو میں بھی مغرب کی طرح دنیا پر حکمرانی کروں۔مگر یہ بات کہ میںجلال الدین سیوطیؒ بن جائوں یا امام بخاریؓبن جائوں یا سیّد عبدالقادر جیلانیؓ بن جائوں کبھی وسوسہ کے طور پر بھی کسی مسلمان کے دل میں پیدا نہیں ہوتی۔پس فرماتا ہے اس وقت کوئی جماعت ایسی نہیں ہوگی جو مردِ مغرب کو گمراہی پر سمجھنے والی ہو۔ہر قوم