تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 239
اور کہنے لگے کہ ہم اسلام کے خلاف غیرمسلموں کو اشتعال دلارہے ہیں۔چنانچہ ابھی تھوڑے ہی دن ہوئے مظہر علی صاحب اظہر کا ایک رسالہ میں نے دیکھا جس میں انہوں نے اس بات پر بڑا زور دیا ہے کہ آریوں نے اگر اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں تو اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ مرزا صاحب نے آریوں پر اعتراضات کرنے شروع کردیئے تھے۔اگر وہ اعتراضات نہ کرتے تو آریہ بھی اسلام کی مخالفت نہ کرتے۔گویا دوسرے الفاظ میں مظہرعلی صاحب اظہر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مرزا صاحب کو دشمن کے مقابلہ میں اپالوجی کرنی چاہیے تھی۔بجائے اس کے کہ اس کے اعتراضات کے جواب دیتے کہتے کہ خدا کے واسطے آپ ہم پر سختی نہ کریں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو نعوذ باللہ ایک جاہل امت کے سردار تھے وہ موجودہ زمانہ کے مسائل کو کہا ں سمجھ سکتے تھے یا قرآن کریم کی تعلیم نعوذ باللہ موجودہ زمانہ میں کام نہیں آسکتی۔یہ تو صرف عرب کے لئے مخصوص تھی۔موجودہ زمانہ میں مغربی علوم ہی لوگوں کو اعلیٰ مقام تک پہنچاسکتے ہیں۔مگر چونکہ مرزا صاحب نے ایسا نہیں کیا بلکہ انہوںنے کھلے طور پر کہا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب انبیاء سے افضل ہیں۔قرآن کریم کی تعلیم دنیا کی تمام تعلیموں سے اعلیٰ ہے۔جاہل اور احمق وہ لوگ ہیں جو آپ پر اعتراضات کرتے اور قرآنی تعلیم کی حقیقت کو نہیں سمجھتے۔اس لئے بقول مظہرعلی صاحب آریوں کو جوش آگیا اور وہ اسلام کا مقابلہ کرنے لگ گئے۔اگر مرزا صاحب ایسا نہ کرتے تو ان کو بھی مقابلہ کا جوش پیدا نہ ہوتا۔غرض سب مسلمانوں کے دلوں میں آج امید بالکل مٹ چکی ہے۔صرف ہماری جماعت ایسی ہے جو اپنے اندر ایک پُر امید دل رکھتے ہوئے مغرب کی گمراہی ثابت کررہی ہے اور یقین رکھتی ہے کہ مغرب اس کے مقابلہ میں کبھی جیت نہیں سکتا۔پس وَ الْعَصْرِ۔اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ کے معنے یہ ہوئے کہ ہم اَلْعَصْـر یعنی زمانۂ نبوت کو اس بات کی شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ آخری زمانہ میں باقی ساری قومیں یورپ کے دبدبہ اور اس کی شوکت و حشمت سے مرعوب ہوجائیں گی اور وہ سمجھیں گی کہ دنیا کی نجات صرف مغرب کی تقلید میں ہے۔لیکن ایک جماعت جو ایمان اور عمل صالحہ کی دولت سے مشرف ہوگی اس کے افراد اس خیال کوباطل قرار دیں گے۔وہ کہیں گے کہ یورپ ہمارے مقابلہ میں کہاں جیت سکتا ہے اس نے تو یقیناً تبا ہ ہوجانا ہے۔باقی قومیں چونکہ صرف دنیوی نقطۂ نگاہ سے مغرب کو دیکھیں گی اس لئے یورپ کا مرد انہیں مردِ کامل نظر آئے گا۔لیکن وہ لوگ جو یورپ کو روحانی نقطۂ نگاہ سے دیکھیں گے انہیں یورپ کا مرد ’’مردِ بیمار‘‘ نظر آئے گا۔چنانچہ آج بالکل یہی کیفیت رونما ہے۔آج یورپ کے لوگوں کو ٹرکی مردِ بیمار نظر آتا ہے اور ایشیائی ممالک کو یورپ مردِ توانا دکھائی دیتا ہے لیکن