تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 20

کہ الامان والحفیظ۔آج کی مسیحیت سو سال پہلے کی مسیحیت نہیں ہے نہ ہندو ازم آج سے سو سال پہلے کی ہندو ازم ہے اور نہ اسلام آج سے سو سال پہلے کا اسلام ہے۔پرانے اصول کو بوسیدہ اور فرسودہ خیالات بتایا جاتا ہے۔نصوص صریحہ قطعیہ کی تاویل کی جاتی ہے۔عبادات کو غیر ضروری اور عقائد کو اوہام قرار دیا جاتا ہے اور یہ دہریوں کی طرف سے نہیں ہو رہا خود مذاہب کے پیرو کاروں کی طرف سے ایسا ہو رہا ہے اور اس کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو مردُود اور لا مذہب قرار دیا جاتا ہے۔غرض وہی حال ہے جو حسرتؔ نے کہا ہےکہ ؎ خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے (د) چوتھا اہم مسئلہ اخلاقیات کا ہے اس میں بھی ایک زلزلہ آ گیاہے۔اخلاق میں سے بڑے بڑے مسائل صداقت، امانت، عفت اور انصاف ہیں ان امور کے متعلق بھی اس زمانہ کا نظریہ بالکل بدل گیا ہے۔اخلاق میں تنزّل صداقت کا جو مفہوم پہلے سمجھا جاتا تھا اب نہیں ڈپلومیسی یعنی سیاست مابین الحکومات میں صداقت کو عیب خیال کیا جاتا ہے۔بڑے بڑے باحیثیت اور معزز لوگ فخر سے اپنے وہ جھوٹ بیان کرتے ہیں جو اپنے دشمنوں کو دھوکہ دینے کے لیے انہوں نے بولے تھے جنگ عالمگیر اوّل میں انگریزوں کی طرف سے اعلان ہوا کہ جرمن لوگ مردوں کی چربی سے صابن تیار کرتے ہیں۔خوب اس کا چرچا ہوااور تمام غیر جانبدار ملکوں نے بھی اس پر لعنت ملامت کی مگر بعد از جنگ خود اسی شخص نے جس نے یہ کہانی مشہور کی تھی تسلیم کیاکہ یہ کہانی ایک میس (Mess) میں جس میں افسر کھانا کھایا کرتے تھے محض پراپیگنڈا کی خاطر میں نے بنا کر مشہور کی تھی۔یہ بھی شدت سے پراپیگنڈا کیا گیا کہ جرمن لوگ جہازوں کو غرق کر کے ڈوبنے والے سپاہیوں پر گولیاں چلاتے ہیں لیکن عجیب بات یہ ہے کہ جنگ کے بعد برطانوی بحری جہازوں کے ملازموں کی طرف سے ایک ڈھال جرمنی کے ملاّحوں کو بھجوائی گئی جس پر یہ عبارت کنندہ تھی کہ اس ہمدردانہ اور شریفانہ رویہ کی یادگار کے طور پر جو جنگ کے ایام میں ڈوبنے والے سمندریوں کی نسبت آپ نے ظاہر کیا یہ ڈھال آپ کی خدمت میں پیش کی جاتی ہے۔اس کے مقابل پر جرمن والوں نے بھی وہ وہ جھوٹ بولے کہ جس کی حد نہیں۔عالمگیر جنگِ اوّل میں تو ریڈیو نہ تھا وہاں کے اخبار نہ آتے تھے اس لئے اس کے بارہ میں مَیں کچھ کہہ نہیں سکتا۔مگر اس جنگ میں ریڈیو کی وجہ سے میں نے خود کئی دفعہ وہاں کی خبریں سنی ہیں اورجاپان کی بھی۔ان خبروں میں اس قدر افتراء اور جھوٹ سے کام لیا جاتا تھا کہ تعجب آتا تھا بسا اوقات جرمن ریڈیو پر ہندوستان کے بڑے بڑے فسادات اور شورشوں کا ذکر ہوتا تھا جس کا نام و نشان بھی ہمارے ملک میں نہیں پایا جاتا تھا