تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 19

میرے لڑکوں کی پڑھائی کے لیے بھی دیں اور وہ یہ منظور کر لیتے ہیں کہ وہ لڑکے بھی ان کے گھر پر حاضر ہو کر سبق لے لیا کریں۔ایک دن بادشاہ یہ دیکھنے کے لیے کہ میرے لڑکے کس قسم کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں خود امام مالکؒ کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے امام مالک ؒ اٹھتے ہیں تو مامون دوڑ کر ان کے آگے ان کی جوتی رکھ دیتا ہے۔بادشاہ کو پیارا امین تھا کیونکہ اس کی ماں اسے بہت پیاری تھی مگر یہ نظارہ دیکھتے ہی ہارون الرشید نے کہا تخت کا وارث غالباً مامون ہی ہو گا۔مگر آج کے حالات گذشتہ زمانہ کے بالکل الٹ نظر آتے ہیں۔مذہب کے خلاف رو (ج) مذہبیات۔مذہب ایسا اوندھے منہ گرا ہے کہ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔پہلے زمانہ کے لوگ مذہب میں کمزوری دکھاتے تھے تو دل میں نادم ہوتے تھے اور اپنے اعمال کو لوگوں سے چھپاتے تھے اب جو مذہب کا ادب کرے احمق سمجھا جاتا ہے۔پہلے مذہب کے خلاف بولنا ایک جرمِ عظیم خیال کیا جاتا تھا اب مذہب کے حق میں بولنا اپنے احمق ہونے کا اعلان کرنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔پہلے مذہب انسانوں پر حکومت کیا کرتا تھا اب انسان مذہب پر حکومت کرتا ہے۔ہر حکومت اپنے اغراض کے مطابق ایک مذہب کو دنیا کے سامنے پیش کر دیتی ہے۔سو ویٹ رشیا کا گرجا سوویٹ اصول کو عین مسیحی تعلیم قرار دیتا ہے، امریکہ کا گرجا مسیحیت کو کمیونزم کے اصول کے خلاف بتاتا ہے۔انگلستان کا گرجا ایک محدود بادشاہی ایک آئینی بادشاہی کو مسیحیت کا صحیح نقشہ بتاتا ہے۔فرانس کا پادری ری پبلک کو انجیل کی حقیقی تصویر ثابت کرتا ہے فاسسٹ پادری فاسزم کو مذہب کی رُوح بتاتا ہے۔ہندوستان میں کانگرس کے زور کے علاقوں میں سارا قرآن باغیانہ تعلیم سے پُر نظر آتا ہے اور انگریزی اثر کے نیچے اس کی تمام تعلیم مغربی ترقی کی تائید کرتی ہوئی ملتی ہے۔جاپان میں شنٹوازم شہنشاہیت کی برکات کو پھیلانے والی معلوم ہوتی ہے۔پہلے زمانہ میں کہا جاتا تھا جب مذہب کی آواز میں بھی کوئی اثر تھا، جب مذہب بھی انسانی زندگی کا کوئی جزو سمجھا جاتا تھاکہ خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے اب موجود ہ فلسفہ ببانگِ بلند کمال دلیری سے علی الاعلان کہتا ہے ہم اس خدا کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں جس نے ہم کو پیدا کیا ہے۔دنیا کو ایسے خدا کی ضرورت ہے جسے دنیا نے پیدا کیا ہے۔صفائی کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ تمام خرابی اور تمام بربادی اور تمام تباہی جو دنیا پر آئی ہے وہ خدا تعالیٰ کے اس خیال کی وجہ سے آئی ہے جس کو دنیا کا خالق قرار دیا جاتا ہے دنیا کا آئندہ امن اور دنیا کی آئندہ بہبودی اور دنیا کی آئندہ ترقی اسی امر پر منحصر ہے کہ جس طرح عوام الناس اپنے لیے بادشاہت مقرر کرتے ہیں مگر اس کے اختیارات وہ خود تجویز کرتے ہیں اسی طرح کہا جاتا ہے وہی مذہب دنیا میں امن قائم کر سکتا ہے جو ایسا خدا پیش کرے جس کے خیالات اور جس کے اعمال عوام الناس آپ مقرر کریں۔اس کے علاوہ علمی ترجمانی مذاہب کی ایسی ہوئی ہے