تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 21
ان خبروںکو سن کر شبہ ہوتاتھا کہ ہم کسی اور دنیا میںبس رہے ہیں یا جرمن زبان میں ہندوستان کسی اور ملک کا نام ہے میں نے بعض کتب پہلی عالمگیر جنگ کے بارہ میں پڑھی ہیں ان میں سیاسیات کے چوٹی کے افراد نے ایسی بےتکلفی سے اپنے جھوٹوں کا ذکر کیا ہے کہ انہیں پڑھ کر انسان انگشت بد نداں رہ جاتا ہے۔اس بے تکلف جھوٹ کے بارہ میں دو۲ میرے اپنے تجربے بھی ہیں۔میں انگلستان گیا تو مذہبی کانفرس کے اس اجلاس میں جس میں خواجہ کمال الدین صاحب کی تقریر پڑھی گئی میں گیا ہی نہیں تھا شیخ یعقوب علی صاحب رپورٹر کے طور پر اس کے نوٹ لینے کے لیے گئے تھے ’’ڈیلی نیوز‘‘ اخبار جو لبرل پارٹی کا سب سے چوٹی کا اخبار تھا اور کئی لاکھ روزانہ چھپتا تھا اب اسے ایک دوسرے زبردست اخبار ’’ ڈیلی کرانیکل‘‘ میں ملا کر دونوں کو ایک کر دیا گیا ہے اور اس کا نام’’ نیوز کرانیکل‘‘ رکھ دیا گیا ہے اس کا ایک ایڈیٹر خاص طور پر مجھے ملنے کے لئے آیاتھا پہلے بہت دیر تک چوہدری ظفراللہ خان صاحب سے حالات معلوم کرتا رہا اور پھر مجھے بھی ملا۔اس اخبار میں رپورٹ شائع ہوئی کہ خواجہ صاحب کا مضمون بہت دلچسپ تھا اور وہ اس قدر پسند کیا گیا کہ امام جماعت احمدیہ جن کا رنگ سیاہ ہے اگلی صف میں بیٹھے ہوئے بڑے شوق سے اس کے نوٹ لے رہے تھے۔عزیز مکرم چوہدری سر ظفر اللہ خان نے اس کے ایڈیٹر کو فون کیا کہ یہ تمہارے اخبار میں کیا چھپ گیا ہے۔وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ انہیں نوٹ لینے کی کیا ضرورت تھی نوٹ لینے والا تو رپورٹرتھا مگر اس نے چوہدری صاحب کی آواز سن کر ہی شور مچا دیا اور معذرت کرنی شروع کر دی کہ مجھے خود بڑا افسوس ہے میں تو انہیں مل آیا ہوں وہ کیا کہتے ہوں گے۔نوٹ رپورٹر کی طرف سے تھا اور دوسرے ایڈیٹر نے احتیاط نہیں کی کل اس کی تردید ہو جائے گی۔آپ ان سے بھی میری طرف سے معذرت کر دیں چوہدری صاحب خوش خوش فون سے ہٹے اور مجھے آ کر بتایا۔دوسرے دن کا پرچہ آیا تو اس میں یوں تردید چھپی تھی:۔’’ افسوس ہے کہ امام جماعت احمدیہ کی نسبت یہ الفاظ لکھے گئے ہیں کہ ان کا رنگ سیاہ ہے۔ان کا رنگ سیاہ نہیں بلکہ ہاتھی دانت کے رنگ کے مشابہ ہے۔‘‘ اسے پڑھ کر ہنسی کے مارے ہمارا برا حال ہوا کہ اس نے یہ کس امر کی تردید کی ہے۔چوہدری صاحب نے پھر فون کیا اور کہا کہ جنابِ من! رنگ آپ کالے کی جگہ اس سے بھی زیادہ سیاہ لکھ دیتے اس کی پرواہ نہ تھی بات تو یہ ہے کہ آپ نے لکھا ہے کہ لیکچر کی دلچسپی کی وجہ سے امام جماعت احمدیہ اس کے نوٹ لے رہے تھے یہ غلط ہونے کے علاوہ ہتک آمیز بات ہے۔اس کے جواب میں ایڈیٹر نے کہا مجھے بہت افسوس ہوا مجھے کالے کا لفظ دیکھ کر ایسا صد مہ ہوا تھا کہ میں نے آپ کی بات کو غور سے سنا ہی نہیں اور یہی سمجھا کہ آپ بھی اسی امر کی شکایت کرنے لگے ہیں۔مگر مجھے