تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 226
تو اسے فوراً گرفتار کر لیا جاتا ہے۔اب اگر گورنمنٹ کچھ عرصہ تک کسی کو گرفتار نہیں کرتی تو اس کے یہ معنے نہیں ہو تے کہ گورنمنٹ موجود نہیں کیونکہ دوسرے وقت حکومت اسے گرفتار کر کے سزا دے دیتی ہے جو ثبوت ہوتا ہے اس بات کا کہ گورنمنٹ موجود ہے پس گورنمنٹ کا کسی کو نہ پکڑنا اس بات کا ثبوت نہیں ہوتا کہ حکومت نہیں بلکہ اس کا پکڑنا اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ حکومت ہے۔یہی دلیل اللہ تعالیٰ اس جگہ بیان کرتا ہے کہ زمانہ نبوت محمدیہؐ کو ہم اس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیںکہ انسان خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر اپنے طور پر کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔اور اگر کرتا ہے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اسے ڈھیل دی گئی ہے ورنہ حقیقت یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر انسان ہمیشہ گھاٹے میں رہتا ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب خدا چاہتا ہے کہ دنیا اس کے احکام کے تابع چلے تو وہ اپنا نبی لوگوں میں بھیج دیتا ہے۔پھر خواہ دنیا کے پاس کتنے بڑے سامان ہوںوہ ان سے کام لے کر کبھی جیت نہیں سکتی۔عَصْـر کے دوسرے معنے دن کے آخری حصہ کے ہیں ان معنوں کے لحاظ سے وَ الْعَصْرِ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ کا مفہوم یہ ہے کہ جب اسلام پر تنزّل کا زمانہ آئے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے دین کے احیا ء کے لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ مبعوث فرمائے گا اس وقت پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان رکھنے والوں کے پاس کسی قسم کے ظاہری سامان نہیں ہوں گے۔دنیا سمجھے گی کہ دشمن بڑا طاقتور اور قوی ہے۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت سخت کمزور ہے۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت جیت جائے اور دشمن اپنے تمام سازو سامان کے ساتھ شکست کھا جائے۔مگر باوجود اس حقیقت کے کہ دشمن طاقتور ہو گا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے والے سخت کمزور ہوں گے آخر نتیجہ یہی نکلے گا کہ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ۔ان کے مقابل کے دشمن جو یہ کہا کریں گے کہ ہم ہی انسان ہیں یہ ہمارے مقابلہ میں بھلا کیا حیثیت رکھتے ہیں وہ انسان کہلانے والے ہار جائیں گے اور جن کو کسی گنتی میں نہیں سمجھا جاتا تھا وہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور اس کی تائید کے ساتھ کامیاب ہو جائیں گے پہلے زمانہ میں لوگوں کو اس اصول کی صداقت کا تجربہ ہو چکا ہے۔دنیا نے دیکھ لیا کہ کس طرح وہ لوگ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اتباع کوذلیل سمجھا کرتے تھے ہار گئی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی سامان نہ رکھنے کے باوجود جیت گئے اور پھر فتح و کامیابی کا یہ زمانہ چند سالوں تک نہیں رہا بلکہ صدیوں تک چلتا چلا گیا۔مسلمانوں نے اس وقت سائنس کی ایجادات میں خا ص طور پر دسترس حاصل نہیں کر لی تھی۔نہ ان میں تجارت کا کوئی خاص ملکہ پیدا ہو گیا تھا۔نہ انہیں علمی لحاظ سے دوسروں پر کوئی غیر معمولی فوقیت حاصل تھی۔وہ ویسی ہی تجارت کرتے تھے جیسے دوسرے لوگ تجارت کرتے ہیںویسا ہی ان کے پاس مال تھا جیسے دوسروں کے پاس مال تھا۔