تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 227
ویسا ہی ان کا علم تھا جیسے دوسروں کا علم تھا۔مگر اس کے باوجود اللہ تعا لیٰ نے ہر قسم کی ترقی اسلام کی وابستگی کے ساتھ مخصوص کر دی تھی نہ یورپ میں یہ خوبی پائی جاتی تھی، نہ چین میں یہ خوبی پائی جاتی تھی، نہ جاپان میں یہ خوبی پائی جاتی تھی مگر جو مسلمانوں سے ملتا تھااس میں ترقی کی روح پیدا ہو جاتی تھی۔اسی طرح علوم مو جو د تھے،محنت کرنے والی قومیں موجود تھیں،روپیہ خرچ کرنے والے لوگ موجود تھے مگر اسلام کے سوااور کوئی چیز دنیا کو صدیوں تک ترقی کی طرف نہ لے جا سکی۔آخر وجہ کیا ہے کہ انسانی تدا بیراس وقت ناکارہ ہو گئیں ؟اس کی وجہ در حقیقت یہی تھی کہ وہ زما نہ ظہو رنبوت تھا جس میں خدا تعا لیٰ کا ایک نیاقانون جاری ہو جاتا ہے اور جس میں محض دنیوی تدابیر سے کام نہیں چل سکتا بلکہ ایمان کو عمل کے ساتھ وابستہ کر دیا جاتا ہے۔اس وقت خدا تعالیٰ کا حکم یہ تھا کہ اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں ہی دنیا کی ترقی ہے۔جو شخص اپنے آپ کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین میں شامل کر لے گا وہ جیت جائے گا اور جو اپنے آپ کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین میں شامل نہیں کرے گا وہ ہار جائے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ہر قوم جو اسلام سے دور رہی ترقی سے بھی دور رہی اور ہر قوم جو اسلام سے وابستہ ہوئی وہ ترقی سے بھی ہمکنار ہوگئی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو نظارہ تم اسلام کے ابتدائی زمانہ میں دیکھ چکے ہو ویسا ہی نظارہ اسلام کے آخری زمانہ میں بھی رونما ہوگا۔چنانچہ اب جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وجود میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بعثت ہوئی ہے اس زمانہ میں بھی ایسی قومیں موجود ہیں جو سمجھتی ہیں کہ ہم ہی انسان ہیں۔چنانچہ جب ہیو مینی ٹیرین(HUMANITARIAN) کا لفظ استعمال کرتی ہیں۔تو ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یورپ کے لوگوںکو یورپ کے لوگوں سے سختی نہیں کرنی چاہیے یا امریکہ کے لوگوں کو امریکہ کے لوگوں سے سختی نہیں کرنی چاہیے اس کے علاوہ ان کا اور کوئی مفہوم نہیں ہوتا۔اسی طرح جب وہ حریت و مساوات کے نعرے بلند کرتے ہیںتو اس حریت اور آزادی سے بھی ان کا مطلب صرف اتنا ہوتا ہے کہ مغربی لوگوں کو آزادی ملنی چاہیے ایشیا کے لوگ ان کے ذہن کے کسی گوشہ میں بھی نہیں ہوتے کیونکہ ایشیا والوں کو وہ انسان ہی نہیں سمجھتے۔پس فرماتا ہے وہ زمانہ پھر آنے والا ہے جب دنیا کا ایک طبقہ اپنے آپ کو انسان سمجھتے ہوئے باقی سب دنیا کو ذلیل قرار دے گا۔اس زمانہء نبوت میں بھی باوجود اس کے کہ دشمنان اسلام کے پاس ہر قسم کے سامان ہوں گے اور دنیا ان کی طاقت کو دیکھتے ہوئے کہے گی کہ یہ لوگ کبھی ہار نہیں سکتے۔ان کی شوکت کبھی مٹ نہیں سکتی۔ان کا رعب اور دبدبہ کبھی زائل نہیں ہو سکتا۔ہم تمہیں خبر دیتے ہیں کہ چونکہ وہ زمانہ نبوت ہوگا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس زمانہ میں دوسری بعثت ہو گی اس لیے باوجود سامان رکھنے کے وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمزور نظر