تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 225

ایسا ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ اپنی طاقت اور قوت اور جلال کا اظہار کرتا ہے۔اگر اس وقت بھی لوگ جیت جائیں تو بے شک کہا جا سکتا ہے کہ جب زمانہ نبوت میں بھی لوگ غالب آگئے تو خدا تعا لیٰ کی خدائی اور اس کی حکومت کا کیا ثبوت رہا۔مگر جب اس زمانہ میں دنیا اپنے تمام سامانوں کے باوجود کامیاب نہیں ہوتی اور وہ اپنی ہر تدبیر میں بری طرح ناکامی کا منہ دیکھتی ہے تو یہ ثبوت ہوتا ہے اس بات کا کہ دنیا پر خدا کی حکومت ہے۔اگر کسی زمانہ میں وہ اپنی حکومت ظاہر نہیں کرتا تو اس سے اس کی حکومت کی نفی نہیں ہو جاتی۔زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کوئی زمانہ ایسا بھی ہوتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنی حکومت ظاہر نہیں کر نا چاہتا ورنہ اس کی حکومت کی نفی نہیں ہو سکتی کیونکہ زمانہ نبوت میں جب وہ اپنی حکومت ظاہر کرتا ہے تو ساری دنیا اپنے سارے سامانوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کے نبی کے مقابلہ میں شکست کھا جاتی ہے۔غرض خدا تعالیٰ کی حکومت اور اس کے دبدبہ اوراس کی شوکت کا فیصلہ صرف زمانہ نبوت سے ہوا کرتا ہے۔اگر زمانہ نبوت نہ ہو تو دنیا کو دیکھ کر یہ قیاس کر لینا کہ چونکہ دنیا نے خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کئے بغیر بڑی ترقی حاصل کرلی ہے اس لئے معلوم ہوا کہ دنیا پر خدا تعالیٰ کی حکومت نہیں بالکل غلط اور باطل خیال ہو گا۔کیونکہ اگر دنیا پر اس کی حکومت نہیں تو وجہ کیا ہے کہ زمانہ نبوت میں ایک کمزور انسان جو ہر قسم کے سامانوں سے تہیدست ہوتا ہے ساری دنیا کے مقابلہ میں جیت جاتا ہے۔آخر اس کی کوئی طبعی وجہ ہونی چاہیے اور چونکہ طبعی وجہ کوئی نہیں، ادھر ہمیں ایک نبی کا دعویٰ نظر آتا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں اور وہ مجھے مخالف حالات کے باوجود کامیابی عطا فرمائے گا تو یہ ثبوت ہوتا ہے اس بات کا کہ واقعہ میں خدا تعالیٰ کی حکومت اس دنیا پر جاری ہے۔دنیا میں بھی دیکھ لو ماں باپ کے پاس کئی دفعہ بچے شور مچا رہے ہوتے ہیں مگر وہ ان کی طرف ذرا بھی توجہ نہیں کرتے۔لیکن ایک اور وقت ایسا آتا ہے جب کوئی بچہ ذرا بھی شور ڈالتا ہے تو باپ اسے ایک تھپڑ رسید کر دیتا ہے اور وہ اسی وقت خاموش ہو جاتا ہے تب پتہ لگتا ہے کہ باپ کی حکومت موجود ہے۔اسی طرح بعض دفعہ ایک طالب علم سبق یاد کرکے سکول میں نہیں جاتا تو استاد اسے کچھ بھی نہیں کہتا۔مگر ایک دن جب وہ سبق نہیں سناتا تواستاد اسے بید کی سزا دے دیتا ہے اور لوگوں کو پتہ لگ جاتا ہے کہ استاد کی حکومت موجود ہے۔پس کسی وقت ماں باپ کا اپنے بچوں کو خاموش نہ کرانا یا استاد کا اپنے شاگرد کو بید کی سزا نہ دینا اس بات کی دلیل نہیں ہوتا کہ ماں باپ کی بچوں پر حکومت نہیں یا استاد کی شاگردوں پر حکومت نہیں۔کیونکہ جب ماں باپ یا استاد سزا دیتے ہیں ہر ایک کو پتہ لگ جاتا ہے کہ ان کی حکومت موجود تھی۔صرف اتنی بات تھی کہ پہلے انہوں نے اس حکومت سے کام نہیں لیا تھا۔اسی طرح بیسیوںدفعہ لوگ گورنمنٹ کے خلاف شور مچاتے ہیں مگر گورنمنٹ ان کے متعلق کوئی کارروائی نہیں کرتی۔لیکن ایک دن آتا ہے جب حکومت کے خلاف کوئی ذرا بھی شور مچائے