تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 18

پر بیٹھے ہوئے پیسفک کی سامن، پرتگال کی سارڈنیز، کیلے فورنیا کے آڑو اور ناشپاتیاں، اٹلی اور افغانستان کے انگور، آسٹریا اور جاپان کے مالٹے اور سنگترے، افریقہ کے کیلے اور ہندوستان کے آم اس بے تکلفی سے کھاتاہے کہ پرانے زمانہ کے امیر کو بھی یہ بات نصیب نہ تھی اور کھاتے ہوئے اپنی غربت کی شکایت بھی ساتھ ساتھ کرتاجاتا ہے۔پرانے زمانہ کا آدمی مثلاً فراعنہء مصر کے وقت کا کوئی آدمی اگر زندہ ہو کر آجائے اور یورپ کے مزدور کو اپنا کھانا کھاتے ہوئے دیکھے تو شاید وہ یہ خیال کرے گا کہ فراعنہء مصر اب پہلے سے بہت زیادہ امیر ہو گئے ہیں اور شاید آرام و آسائش کے سامان انہیں اب پہلے سے بہت زیادہ میسر آنے لگ گئے ہیں۔جس قدر لباس پرانے زمانہ میں درمیانی طبقہ کے لوگوں اور معمولی امیروں کو میسر نہ تھا آج کل متمدن ممالک کے غرباء کو اس سے بڑھ کر میسر ہے۔جو تماشے بڑے بڑے بادشاہ دیکھتے تھے اور لوگ ان کی عیاشی پر انگشت بدنداں ہوتے تھے آج ایک غریب مزدور چار آنے کے پیسے دے کر انہیں دیکھتا ہے اور اس سابق بادشاہ کی طرح کبھی کبھی نہیں دیکھتا بلکہ روزانہ دیکھتا ہے۔اِندرسبھااگر کوئی تھی تو آج کے سینمائوں کے سامنے وہ بالکل مات نظر آتی ہے۔پرانے زمانہ کے ہندوستانی مہاراجگان کے سامنے یا اگر اِندر بھی کوئی مہاراجہ گذرا ہے تو اس کے سامنے جس لباس میں ملکائیں اور شہزادیاں آتی تھیں اگر اس ادنیٰ لباس میں آج سینمائوں میں کوئی ایکٹرس آ جائے تو شاید حاضرین پرانی جوتیاں مار مار کے اس کی سکرین کو پھاڑ ڈالیں۔بیوی میاں کے تعلقات، والدین اور اولاد کے تعلقات، استاد اور شاگرد کے تعلقات آج کل پرانے تعلقات سے ایسے مختلف ہیں کہ پرانے زمانہ کا آدمی آج کل پیدا ہو تو شاید پاگل ہی ہو جائے۔کسی وقت بیوی میاں کی خدمت کرتی تھی آج میاں بیوی کا کوٹ اور چھتری اٹھائے اٹھائے اس کے پیچھے پھرتا نظر آتا ہے کبھی میاں اور بیوی اپنے پیار کی باتوں کو اپنے عزیز ترین وجودوں سے الگ ہو کر بند کمروں میں ادا کیا کرتے تھے آج برسرِ عام میاں بیوی ایک دوسرے کو ڈارلنگ ڈارلنگ کہتے ہوئے نہیں تھکتے۔سٹیشنوں پر ہزاروں آدمیوں کے ہجوم میں مرد عورت کو اس طرح بوسہ دیتا نظر آتا ہے جس طرح پرانے زمانہ میں جسم پر سے خاک جھاڑ لیا کرتے تھے۔والدین کو اولاد پر آج کوئی حق حاصل نہیں نہ اولاد والدین کا حق تسلیم کرتی ہے۔والدین کی خدمت ایک فرسودہ خیال سمجھا جاتا ہے استاد پہلے آقا ہوتا تھا اب نوکر ہے۔پہلے علم پڑھانے کو خواہ روپیہ کے بدلہ میں ہو احسان سمجھا جاتا تھا اب اسے اور خدمتوں کی طرح ایک خدمت قرار دیا جاتا ہے۔امام مالک صاحب کی خدمت میں خلیفۂ وقت جس کی بادشاہت یورپ سے لے کر ایشیا کے کناروں تک پھیلی ہوئی تھی درخواست کرتا ہے کہ کچھ وقت