تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 222
ہے اور مطلب یہ ہے کہ تُو تو کہا کرتا تھا کہ میں بڑا عزیز ہوں اور تو کہا کرتا تھا کہ میں بڑا کریم ہوں۔آج تو دوزخ میں جا اور دیکھ کہ تیرے عزیز اور کریم ہونے کا دعویٰ کہاں تک حق بجانب تھا۔اسی طرح اَلْاِنْسَان میں وہ دعویٰ انسانیت مراد ہے جو دشمنان اسلام کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ آدمی تو ہم ہیں یہ بھلا کس گنتی اور شمار میں ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے گنتی اور شمار والے انسان تجھے پتہ لگ جائے گا کہ تو گھاٹے کی طرف جا رہا ہے تیرے دعوے سب خاک میں مل جائیں گے اور جن لوگوں کو تو حقارت کے ساتھ یہ کہتے ہوئے نہیں شرماتا کہ وہ بھی کوئی انسان ہیں ان بظاہر ادنیٰ نظر آنے والے لوگوں کے مقابلہ میں تجھے ایسی ذلت اور رسوائی نصیب ہو گی کہ دنیا تیرے وجود سے عبرت حاصل کرے گی۔آخر یہ غور کرنے والی بات ہے کہ وہ اپنے آپ کو اَلْاِنْسَان کیوں کہتے تھے۔ان کا اپنے آپ کو اَلْاِنْسَان کہنا اس وجہ سے تھا کہ جو چیزیں ان کے پاس تھیںان کی وجہ سے لوگ یقینی طور پر جیتا کرتے ہیں اور جو چیزیں مسلمانوں کے پاس نہیں تھیں ان کا فقدان لوگوں کے لئے یقینی طور پر شکست کا موجب ہوا کرتا ہے۔مثلا ً وہ اپنے آپ کو اَلْاِنْسَان اس لئے کہتے تھے کہ ہم حاکم ہیں اور مسلمان محکوم ہیں اور یہ ایک واضح امر ہے کہ دنیا میں عام طور پر حاکم ہی جیتا کرتے ہیں محکوم نہیں جیتا کرتے۔بے شک حاکم بھی بعض دفعہ ہار جاتے ہیں مگر اس وقت جب رعایا ان کے خلاف ہو۔اگر رعایا ان کے ساتھ ہوتووہ شکست نہیں کھاتے۔اسی طرح جب وہ کہتے تھے کہ ہم آدمی ہیں مسلمان بھلا کس گنتی اور شمار میں ہیں تو ان کا مطلب یہ ہوا کرتا تھا کہ ہم تو کثیر ہیں اور یہ ایک چھوٹا سا گروہ ہے۔اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِيْلُوْنَ (الشعرآء:۵۵) انہوں نے ہمارے مقابلہ میں کیا فتح حاصل کرنی ہے۔اور یہ بھی ایک واضح امر ہے کہ عام طور پر اکثریت ہی فتح حاصل کرتی ہے اقلیت فتح حاصل نہیں کرتی۔پھر قوموں کو جتھہ غلبہ دیا کرتا ہے اور یہ جتھہ بھی اہل مکہ کے پاس تھا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں تھا۔اسی طرح قوموں کودولت سے غلبہ حاصل ہوا کرتا ہے مگر دولت بھی دشمنوں کے پاس تھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں تھی۔قوموں کو سیاست اور اردگرد کی اقوام سے دوستانہ تعلقات کے نتیجہ میں غلبہ حاصل ہوا کرتا ہے مگر سیاست بھی دشمنوں کے قبضہ میں تھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضہ میں نہیں تھی۔قوموں کو صنعت وحرفت سے غلبہ حاصل ہوا کرتا ہے مگر صنعت وحرفت بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں نہیں تھی بلکہ کفار مکہ کے ہاتھ میں تھی۔غرض جتنی چیزیں دنیا میں کسی قوم کو ترقی دینے کا موجب ہوتی ہیں وہ سب کی سب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کے ہاتھ میں تھیں۔اور جتنی چیزیں بظاہر کسی قوم کی شکست کا موجب ہوتی ہیں وہ سب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوںمیں پائی جاتی تھیں۔پس فرماتا ہے بے شک تم اپنے متعلق کہتے ہو کہ ہم آدمی ہیں اور ہم بھی