تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 223 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 223

تسلیم کرتے ہیں کہ تمہارے پاس وہ تمام چیزیں موجود ہیں جو انسان کو انسان بنا دیتی ہیں۔تمہارے پاس حکومت بھی ہے، تمہارے پاس دولت بھی ہے، تمہارے پاس سیاست بھی ہے، تمہارے پاس صنعت وحرفت بھی ہے، تمہارے پاس تجارت بھی ہے، غرض وہ سب چیزیں تمہارے پاس ہیں جن سے دنیا میں قوموں کو عروج حاصل ہوا کرتا ہے مگر باوجود یہ تسلیم کر لینے کے کہ اَلْاِنْسَان کہلانے کے تم ہی مستحق ہو۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی دنیوی نقطہء نگاہ سے کسی گنتی اور شمار میں نہیں ہیں پھر بھی ہم بطور پیش گوئی کے یہ اعلان کرتے ہیں کہ اے کامل انسان ! اے ہر قسم کے سازوسامان رکھنے والے انسان !اس زمانہء محمدیہ میں تیرے سازوسامان تیرے کام نہیں آئیں گے اور تو گھاٹے میں ہی رہے گا۔بے شک دنیا میں عام طور پر یہ قانون جاری ہے کہ جب کسی کے پاس سیاست ہو، جب کسی کے پاس جتھہ ہو، جب کسی کے پاس علم ہو، جب کسی کے پاس حکومت ہو، جب کسی کے پاس دولت ہو، جب کسی کے پاس صنعت و حرفت ہو تو ایسا شخص ضرور جیتا کرتا ہے۔مگر یہاں ایسا نہیں ہوگا۔اب زمانہء نبوت محمدیہ آگیا ہے اور اب اس قانون کی بجائے ایک اور قانون جاری کر دیا گیا ہے۔اب دولت کے باوجود تم ہاروگے، سیاست کے باوجود تم ہاروگے، جتھہ کے باوجود تم ہاروگے، علم کے باوجود تم ہاروگے، حکومت کے باوجود تم ہاروگے، صنعت و حرفت کے باوجود تم ہاروگے، اور تمہارا یہ ہارنااس بات کا ثبوت ہو گا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دعویٰ رسالت میں سچے ہیں۔ورنہ اگر کسی کے پاس جتھہ نہ ہو تو اس کا ہارنا کون سا ہارنا ہے، اگر کسی کے پاس علم نہ ہو تو اس کا ہارنا کون سا ہارنا ہے، اگرکسی کے پاس حکومت نہ ہو تو اس کا ہارنا کون سا ہارنا ہے، اگر کسی کے پاس سیاست نہ ہو تو اس کا ہارنا کون سا ہارنا ہے، یہ ساری چیزیں ہوتے ہوئے کسی قوم کا گھاٹے میں چلے جانا اصل گھاٹا ہے اور یہی وہ تنزّل اور بربادی کا مقام ہے جس کی اہل مکہ کو ان الفاظ میں خبر دی گئی ہے کہ وَ الْعَصْرِ۔اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ۔ہم اس زمانہ کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ انسان دنیوی طور پر خواہ کتنے سازوسامان رکھتا ہو خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر وہ ضرور گھاٹے میں چلا جاتا ہے۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کس بات کی شہادت ہوئی؟اس کا جواب یہ ہے کہ دنیا میں عام قاعدہ یہ ہے کہ دنیوی سامانوں سے قومیں جیتا کرتی ہیں ہارا نہیں کرتیں۔اسی وجہ سے لوگ کہا کرتے ہیںکہ چونکہ دنیا میںتعلیم سے ترقی حاصل ہوتی ہے ہمیں بھی تعلیم حاصل کرنی چاہیے یا چونکہ سیاست میں حصہ لینے کی وجہ سے دنیا میں ترقی ہوتی ہے اس لیے ہمیں بھی سیاست میں حصہ لینا چاہیے۔وہ اپنی تمام ترقی دنیوی تدابیر سے وابستہ قرار دیتے ہیںاور خیال کرتے ہیں کہ اگر کوئی ترقی کرنا چاہے تو اس کے لئے واحد طریق یہی ہوتا ہے کہ وہ دنیوی سامان اپنے پاس