تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 221
سے یہ سنت چلی آئی ہے کہ جب بھی اس کی طرف سے کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے اس پر ابتدا میں ایمان لانے والے عام طور پر ادنیٰ طبقہ کے لوگ ہوتے ہیں۔بے شک وہ عالم ہوں، متقی ہوں، اللہ تعالیٰ کے احکام کو سمجھنے والے ہوں، دینی امور میں نہایت بالغ نظر رکھنے والے ہوں، روحانیت اور تقویٰ کے بلند مقام تک پہنچے ہوئے ہوں پھر بھی دنیوی لحاظ سے وہ ادنیٰ طبقہ میں شمار کئے جاتے ہیں۔کیونکہ ان کے پاس نہ دولت ہوتی ہے نہ حکومت ہوتی ہے نہ ظاہری طاقت ہوتی ہے اور ان کے دشمن ان میں سے ایک ایک چیز کے مالک ہوتے ہیں۔وہ صاحب دولت بھی ہوتے ہیں، وہ صاحب وجاہت بھی ہوتے ہیں اور وہ صاحب حکومت بھی ہوتے ہیں اسی وجہ سے وہ ان کو کسی گنتی اور شمار میں نہیں سمجھتے۔ہمارے ہاں بھی یہ محاورہ استعمال ہوتا ہے۔چنانچہ جب کسی کی تحقیر کرنی ہو تو کہا جاتا ہے وہ کون سی گنتی میں ہے یا کہا جاتا ہے وہ بھی کوئی آدمی ہے۔پس اَلْاِنْسَان میں کفار کی اسی ذہنیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ مسلمان ان کی نگاہ میں ایسے بے حقیقت ہیں کہ وہ ان کو انسانوں میں شمار ہی نہیں کرتے۔صرف اپنے آپ کو انسان سمجھتے ہیں۔پس چونکہ کفار نبیوں کے اتباع کے متعلق ہمیشہ یہ کہا کرتے ہیں کہ وہ بھی کوئی آدمی ہیں۔آدمی تو ہم ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ ان کے مقابل میں طنزیہ رنگ اختیار کرتے ہوئے کہتا ہے یہ جو اپنے آپ کو آدمی سمجھتے اور اَلْاِنْسَان قرار دیتے ہیں ہم عصر کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ تباہی اور بربادی کی طرف جارہے ہیں۔یہ اپنے آپ کو بے شک انسان قرار دیں اور بے شک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے رہیں کہ وہ بھی کوئی آدمی ہیں۔حقیقت یہی ہے کہ یہ اپنے آپ کو انسان قرار دینے والے اور دوسروں کو دائرہ انسانیت سے خارج سمجھنے والے تباہی اور بربادی کے راستہ کی طرف دوڑے چلے جا رہے ہیں۔گویا جس لفظ سے وہ اپنے آپ کو یاد کیا کرتے تھے اور جس لفظ کا استعمال وہ اپنے لئے فخر کا موجب سمجھتے تھے اسی کو طنزیہ طور پر ان کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔جیسے قرآن کریم میںایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ذُقْ١ۙۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ ( الدّخان:۵۰) جب دوزخی دوزخ میں ڈالا جائے گا تو اسے کہا جائے گا کہ تو اس عذاب کا مزہ چکھ۔تُو تو بڑا عزت والا ہے تُو تو بڑے رتبے والا ہے۔حالانکہ وہ اس وقت دوزخ میں داخل کیا جا رہا ہوگا اور اس لحاظ سے اس کی عزت اور رتبے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اگر وہ عزت والا ہوتا تو دوزخ میں کیوں ڈالا جاتا اور اگر رتبے والا ہوتا تو آخرت میں کیوں ذلیل ہوتا۔اس کا دوزخ میں ڈالا جانا ہی بتاتا ہے کہ نہ اسے عزت حاصل تھی اور نہ اسے رتبہ حاصل تھا۔مگر قرآن کریم کہتا ہے کہ دوزخ میں ڈالتے وقت اسے کہا جائے گا ذُقْ١ۙۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ طنزیہ طور پر ان الفاظ کو استعمال کیا گیا