تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 220

جو اوپر بتائے گئے ہیں ان کے لحاظ سے اس آیت کے بھی مختلف معانی ہوجائیں گے۔عصر کے ایک معنے دن کے پہلے حصہ یعنی صبح سے دوپہر تک کے ہیں اور دوسرے معنے دن کے پچھلے حصہ یعنی دوپہر سے شام تک کے ہیں۔چونکہ قرآن کریم اپنے مطالب میں ذوالوجوہ ہے اور اس کی ایک ایک آیت اپنے اندر کئی بطون رکھتی ہے اس لئے جتنے معنے کسی لفظ کے لغتََا یا محاورۃََ ہو سکتے ہوں اور وہ کسی آیت پر چسپاں بھی ہوتے ہوں ہم ان تمام معانی کو ملحوظ رکھ سکتے ہیں۔اس نقطہ نگاہ کے ماتحت اگر عصر کے معنے دن کے پہلے اور پچھلے حصہ کے کئے جائیں تو اس جگہ عرفی دن جس کا مادی سورج کے ساتھ تعلق ہے وہ مراد نہیں ہو گا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ رسالت مراد ہو گا۔کیونکہ قرآن کریم نے صراحتاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سورج قرار دیا ہے جیسا کہ سورۃ الشمس میں اس کا ذکر آتا ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورج ہوئے تو لازمی طور پر آپ کا زمانہ دن کہلائے گا اورایک دن کا ابتدائی حصہ ہو گا اور ایک آخری حصہ ہوگا۔پس عصر کے معنے اگر ہم دن کے ابتدائی اور آخری حصہ کے لیںتو جہاں مادی طور پر روزانہ چڑھنے والے سورج کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے دن کا ایک ابتدائی حصہ مراد لیتے ہیں اور ایک آخری حصہ مراد لیتے ہیں۔وہاں قرآن کریم نے چونکہ خصوصیت کے ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا نام دن رکھا ہے اس لئے آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ ہم زمانہء نبوت محمدیہ کے ابتدائی حصے کو بھی تمہارے سامنے شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں اور ہم زمانہء نبوت محمدیہ کے آخری حصہ کو بھی تمہارے سامنے بطور شہادت پیش کرتے ہیں۔اگر تم ان دونوں حصوں کو دیکھو گے اور ان پر غور اور تدبر سے کام لو گے تو تمہیں پتہ لگ جائے گا کہ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ انسان یقیناً گھاٹے میں ہے۔ان معنوں کے رو سے اَلْاِنْسَان سے وہ انسان سمجھا جائے گا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں کھڑا ہوا۔کیونکہ ہر جگہ الفاظ کے ان کی نسبت کے لحاظ سے معنے ہوتے ہیں۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورج ہوئے تو گھاٹا پانے والا انسان بہرحال وہی ہوا جس نے سورج سے فائدہ نہ اٹھایا۔پس اَلْاِنْسَان سے اس جگہ سورج کے مخالف کھڑا ہونے والا انسان مراد ہے۔یعنی وہ جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلٖ وسلم کی بعثت سے فائدہ نہ اٹھایا۔بالخصوص اس وجہ سے بھی اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ میں مومنوں کا استثنیٰ کر دیا گیا ہے اور بتا دیا گیا ہے کہ اَلْاِنْسَان سے غیرمومن انسان مراد ہیں نہ کہ مومن۔اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ میں انسان سے مراد کافر انسان یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس جگہ کفار کو اَلْاِنْسَان کیوں کہا گیا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کفار کو اَلْاِنْسَان اس لئے کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہمیشہ