تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 219
کر اس کا پانی نکالااور عَصَـرَ الشَّیْءَ عَنْہُ کے معنے ہوتے ہیں مَنَعَہٗ ایک چیز کو دوسری چیز کے پاس پہنچنے سے روک دیا اور عَصَـرَ فُلَانًا کے معنے ہوتے ہیں اَعْطَاہُ الْعَطِیَّۃَ اسے تحفہ دیا۔اور عَصَـرَہٗ کے معنے ہوتے ہیں حَبَسَہٗ اس کو روک دیا (اقرب) اور عَصْـرٌ اس کا مصدر ہے۔اس لئے سب مصدری معنے بھی اس میں پائے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ عصر دن کو بھی کہتے ہیں اور عصر کے معنے رات کے بھی ہوتے ہیں اور عصر کے معنے سورج ڈھلنے سے لے کر شام کے وقت تک کے بھی ہیں اور عصر کے معنے صبح سے لے کر سورج کے ڈھلنے تک کے بھی ہیں (اقرب)۔گویا یہ لفظ اپنے اندر متضاد معنے رکھتا ہے۔اس کے معنے دن کے بھی ہیں یعنی وہ دن جس میں سورج چڑھا ہوا ہوتا ہے کیونکہ دن کا لفظ عام طور پر رات اور دن دونوں کے لئے بولا جا تا ہے اور اس کے معنے رات کے بھی ہیں۔اسی طرح اس کے معنے صبح سے زوال تک کے بھی ہیں اور زوال سے شام تک کے بھی ہیں۔اس کی جمع اَعْصُـرٌ وَ عُصُوْرٌ آتی ہے اور اس کے معنے علاوہ اوپر کے معانی کے قبیلہ کے بھی ہوتے ہیں۔چنانچہ لغت میں لکھا ہے اَلْعَصْـرُ: اَلرَّہْطُ وَالْعَشِیْـرَۃُ اور عصر کے معنے اَلْمَطْرُ مِنَ الُمُعْصِـرَاتِ کے بھی ہیں۔یعنی تیز گھنی بدلیوں میں سے جو بارش برستی ہے اسے بھی عصر کہتے ہیں۔اور عصر کے معنے تحفہ اور انعام کے بھی ہوتے ہیں اور عَصْـٌر، عِصْـرٌ، عُصْـرٌ: دَھْرٌ یعنی زمانہ کے معنوں پر بھی بولا جاتا ہے۔اس وقت اس کی جمع پہلی جمع کے علاوہ ایک اور بھی استعمال ہوتی ہے۔پہلے معنوں کے لحاظ سے تو اس کی جمع صرف اَعْصُـرٌ وَعُصُوْرٌ ہوتی ہے لیکن زمانہ کے معنوں میں اس کی جمع اَعْصُـرٌ بھی ہے عُصُوْرٌ بھی ہے اور اِعْصَارٌ بھی ہے۔پھر آگے اِعْصَارٌکی جَـمْعُ الْـجَمْعِ اَعَاصِـر آتی ہے(اقرب)۔وَالْعَصْرِ میں وائو قسم کی ہے اور وَ الْعَصْرِ کے معنے یہ ہیں کہ ہم شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں عصر کو۔کس بات کی شہادت کے طور پر؟وہ دوسری آیت میں بیان کی گئی ہے کہ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ یعنی انسان یقیناً گھاٹے میں ہے۔خُسْـرٌ۔خُسْـرٌکے معنے گھاٹے کے ہوتے ہیں چنانچہ خَسِـرَ التَّاجِرُ فِیْ بَیْعِہٖ(خَسْـرًا وَ خَسَـرًا وَخُسُـرًا وَخُسْـرَانًا وَ خَسَـارَۃً) کے معنے ہوتے ہیں وُضِعَ فِیْ تِـجَارَتِہٖ اس نے اپنی تجارت میں نقصان اٹھایا وَ ضِدُّ رَبِـحَ اور یہ نفع کے مقابل کا لفظ ہے۔یعنی اس کے معنے گھاٹے کے ہوتے ہیں اسی طرح جب خَسِـرَا الرَّجُلُ کہیں تو اس کے معنے ہوتے ہیں ضَلَّ وہ گمراہ ہو گیا۔لیکن کبھی اس کے معنے ہَلَکَ کے بھی ہوتے ہیں یعنی وہ ہلاک ہو گیا (اقرب) پس اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ کے معنے یہ ہوئے کہ انسان یقیناً گھاٹے میں ہے یا انسان یقیناً گمراہی میں مبتلا ہے یا انسان یقیناً ہلاکت کی طرف جا رہا ہے۔تفسیر۔عصر کے مختلف معانی کے اعتبار سے وَ الْعَصْرِ کا مطلب عصر کے مختلف معانی