تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 216
کردیا۔شام میں ان دنوں قیصر کی فوجوں سے اسلامی فوجوں کی جنگ ہورہی تھی اور آپ کا مطلب یہ تھا کہ اگر تم اس جنگ میں شامل ہو جائو اور اپنی جانیں اسلام کے لیے قربان کر دو تو شاید ان گناہوں کا کفارہ ہو جائے۔وہ نوجوان اس بات کو سمجھ گئے اسی وقت باہر نکلے،اونٹوں پر سوار ہوئے اور سب کے سب اس جنگ میں شامل ہونے چلے گئے اور تاریخ بتاتی ہے کہ پھر ان میں سے کوئی ایک شخص بھی زندہ واپس نہیں آیا سب کے سب اس جنگ میں قربان ہوگئے۔(مناقب امیر المؤمنین عمر بن الـخطاب لابن الـجوزی باب فی عدلہ) پس بے شک قیامت کے دن بھی خدا تعالیٰ اپنی نعمتوں کے متعلق لوگوں سے سوال کرے گا اور ان سے دریافت کرے گا کہ میری نعمتوں سے تم نے کیا فائدہ اٹھایا۔مگر اس دنیا میں بھی جب قوموں پر تباہی وارد ہوتی ہے تو وہ ایک دوسرے سے کہا کرتی ہیں کہ ہمیں ترقی کا فلاں موقع ملا مگر ہم نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا فلاں موقع ملا مگر ہم نے اسے ضائع کر دیا۔غرض قرآن کریم نے اس سورۃ میں نہایت مختصر الفاظ میں وہ گُر بتایا ہے جس سے قومیں تباہ ہوتی ہیں اگر اس گُر کو ہمیشہ یاد رکھا جائے تو کبھی قومی تباہی نہ آئے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ہوشیار کر دیا تھا کہ قومی تباہی کی سب سے بڑی وجہ تکا ثر ہوتی ہے مگر افسوس کہ باوجود اس کے کہ قرآن کریم نے اس حقیقت کو کھول کر بیان کر دیا تھا پھر بھی قومیں اسی طرح کرتی چلی جاتی ہیں۔خدا تعالیٰ کی نعمتیں ان کی نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہیں اور وہ تکا ثر کو زیادہ اہمیت دے کر اپنے آپ کو تباہی کے گڑھے میں گرا لیتی ہیں۔