تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 215

پیچھے ہٹنا پڑا تو ہٹتے ہٹتے وہ جوتیوںکی جگہ پر جا پہنچے یہ دیکھ کر وہ کمرہ میں سے باہر نکل گئے اور انہوں نے ایک دوسرے سے کہا دیکھا آج ہماری کیسی ذلت ہوئی ہے۔پھر وہ افسوس کرنے لگے کہ عمر ؓ سے ہمیں اس بات کی توقع نہیں تھی۔عمر ؓ تو جانتا تھا کہ ہم کتنے بڑے خاندانوں میں سے ہیں مگر افسوس کہ انہوں نے بھی ہماری عزت کی کوئی پرواہ نہ کی اور ہم پر غلاموں کو تر جیح دے دی۔ان میں سے ایک جو زیادہ سمجھدار تھا اس نے جب یہ باتیں سنیں تو کہنے لگا تم کیا باتیں کر رہے ہو۔کیا تم سوچتے نہیں کہ اس میں عمر ؓ کا کوئی قصور نہیں ہمارا اپنا قصور ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں آئے تو انہوں نے متواتر اور مسلسل لوگوں سے کہا کہ آئو اور مجھ کو مان لو۔مگر ہمارے باپ دادا نے ہر دفعہ ان کا انکا ر کیا اور انہیں سخت سے سخت تکالیف پہنچائیں۔اب اگر ہمیں اس کا کوئی خمیازہ بھگتنا پڑا ہے تو اس میں عمرؓ کا کیا قصور ہے۔ہمارے باپ دادا نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا لیکن ان غلاموں نے آپ کو مان لیا اور اسلام کے لئے ہر قسم کی قربانی کی۔یہی وجہ ہے کہ آج غلاموں کو ہم پر ترجیح دی گئی ہے۔اگر ہمارے باپ دادا اسلام کے لیے قربانی کرتے تو ہمیں بھی عزت ملتی۔جب انہوں نے اس وقت قربانی نہیں کی بلکہ اسلام کو قبول تک نہیں کیا تو آج ہمیں یہ شکوہ کس طرح پیدا ہو سکتا ہے کہ ان لوگوں کی ہمارے مقابلہ میں کیوں زیادہ عزت کی گئی ہے۔انہوں نے کہا یہ بات تو درست ہے مگر آخر اس ذلت کا کوئی علاج بھی ہے یا نہیں۔ان میں سے ایک نے کہا چلو یہی بات حضرت عمر ؓ سے دریافت کر لیتے ہیں۔چنانچہ وہ پھر حضرت عمرؓ کے پاس گئے اس وقت مجلس بر خاست ہو چکی تھی اور صحابہ ؓاپنے اپنے گھروں کو واپس جا چکے تھے انہوں نے حضرت عمرؓ سے کہا آج جو کچھ واقعہ ہواہے وہ آپ کو معلوم ہی ہے ہم اس کے متعلق آپ کی خدمت میں حاضرہوئے ہیں۔حضرت عمرؓ ان رئووسا کی گذشتہ شان وشوکت سے خوب واقف تھے اور جانتے تھے کہ ان کے باپ دادا مکہ میں کتنی بڑی عزت رکھتے تھے جب انہوں نے یہ بات کہی تو حضرت عمرؓ کی آنکھوں میںآنسوڈبڈبا آئے اور آپ نے فرمایا میں معذور تھا کیونکہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت مانا جب ساری دنیا آپ کی مخالف تھی اور یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اسلام کے لیے بڑی بڑی تکالیف برداشت کیں۔جب خدا نے ان کو اسلام میں عزت دی تو میرا بھی فرض تھا کہ میں ان کو عزت کے مقام پر بٹھاتا۔انہوں نے کہا ہم یہ سمجھ کر آئے ہیں کہ اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں ہمارا اپنا قصور ہے۔یہ لوگ واقعہ میں اسی عزت کے مستحق تھے مگر سوال یہ ہے کہ کیا کوئی کفارہ ایسا نہیں جس سے یہ ذلت کا داغ ہماری پیشانیوں پر سے مٹ سکے؟حضرت عمرؓ پر یہ سوال سن کر ایسی رقت طاری ہوئی کہ آپ الفاظ میں ان کو کوئی جواب نہ دے سکے صرف آپ نے اپنا ہاتھ اٹھا کر شام کی طرف اشارہ