تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 217
سُوْرَۃُ الْعَصْـرِ مَکِّیَّۃٌ سورۃالعصریہ سورۃ مکی ہے وَھِیَ ثَلَاثُ اٰیَاتٍ دُوْنَ الْبَـسْمَلَۃِ وَ فِیْـھَا رُکُوْعٌ وَّاحِدٌ اس کی بسم ا للہ کے سوا تین آیات ہیں اور ایک رکوع ہے سورۂ عصر مکی ہے سورۃ العصر اکثر مفسرین کے نزدیک مکی ہے۔مستشرقین کے نزدیک بھی یہ ابتدائی مکی سورتوں میں سے ہے۔میور نے اسے خواطر نفسیہ ( SOLILOQUISE) میں سے قرار دیا ہے۔یعنی وہ سورتیں جو اس کے نزدیک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکالمہ بالنفس سے تعلق رکھتی ہیں ان سورتوں میں اس نے سورۃ العصر کو بھی شامل کیا ہے اور چونکہ وہ ان کو بالکل ابتدائی سورتیں قرار دیتا ہے اس لئے اس کے نزدیک یہ بالکل ابتدائی مکی سورۃ ہے۔(A Comprehensive Commentary on the Quran by Wherry vol:4 P:276) بعض روایات میں جو ہیں تو غیر معروف ایک عجیب واقعہ اس سورۃ کے متعلق بیان کیا گیا ہے۔عمرو بن عاص سے جبکہ وہ ابھی اسلام نہیں لائے تھے یہ روایت کی جاتی ہے کہ ایک دفعہ وہ اپنے کسی کام کے لئے مسیلمہ کذاب کے پاس گئے۔اس نے پوچھا تمہارے شہر کے نبی پر کوئی تازہ کلام نازل ہوا ہے تو سنائو۔عمرو بن عاص نے کہا کہ ایک مختصر سی نئی سورۃ ان پر نازل ہوئی ہے مگر ہے بڑی لطیف اور سورۃ العصر اسے سنائی۔مسیلمہ نے سورۃ العصر سن کر تھوڑی دیر خاموشی اختیار کی پھر ایک بےہودہ سی عبارت با قافیہ پڑھ کر عمرو بن عاص کو سنائی اور کہا کہ یہ کلام ابھی مجھ پر نازل ہوا ہے۔پھر پوچھا کہ آپ اس کے بارہ میں کیا کہتے ہیں۔عمرو بن عاص نے کہا مجھ سے کیا پوچھتے ہو تم کو معلوم ہی ہے کہ میں تم کو جھوٹا سمجھتا ہوں (تفسیر ابن کثیر زیر سورۃ العصر ابتدائیۃ )۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار پر بھی اس مختصر سورۃ کا ایک گہرا اثر تھا۔حضرت امام شافعی کہتے ہیں کہ یہ سورۃ بڑے وسیع مطالب رکھتی ہے اگر کوئی شخص اس سورۃ پر تدبّر کرے تو اس کی تمام دینی ضرورتیں پوری ہو جاتی ہیں۔(تفسیر ابن کثیر زیر سورۃ العصر ابتدائیۃ ) ایک حدیث میں آتا ہے کہ دو صحابیؓ تھے جب بھی وہ آپس میں ملنے کے بعد ایک دوسرے