تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 17

اس قدر بڑھ چکی ہے کہ انصاف اور عدل کا نام و نشان بھی دنیا میں باقی نہیں رہا۔اس وجہ سے کوئی قوم دوسری قوم سے مطمئن نہیں، کوئی حکومت دوسری حکومت سے مطمئن نہیں اور چونکہ اب حکومت عوام الناس کے ہاتھ میں ہے جنگ کرنا یا صلح کرنا انہی کے قبضہ میں ہے اس لیے اپنی موجودہ حالت کو قائم رکھنے یا اس کو اور بڑھانے کی خاطر لیڈر اور حکومتیں عوام الناس کے جذبات کو اشتعال پر اشتعال دلاتی چلی جاتی ہیں تا ان کے اندر سکون پیدا ہو جانے کی وجہ سے دوسری قوم یا دوسری حکومت ان پر غالب نہ آجائے اس وجہ سے ایک نہ ختم ہونے والی حرکت قوموں میں پیدا ہو رہی ہے۔تیسرے: تغیر اور تبدیلی بھی حرکت کا موجب ہوتی ہے یہ بھی اس حد تک پیدا ہو چکے ہیں کہ اب کوئی چیز پرانی کہلانے کی مستحق نہیں (الف) سیاسیات کو لے لو سیاست اب وہ نہیں رہی جو پہلے تھی۔سیاست کے اصول ہی بالکل بدل چکے ہیں۔پہلے سیاست نام تھا صرف ایک بادشاہ کے دوسرے بادشاہ سے تبادلۂ خیال کا۔مگر اب تو حکومت عوام الناس کے ہاتھ میں ہے اب سیاست کا دائرہ صرف ملک کی حدود کے تصفیہ تک باقی نہیں رہ گیا بلکہ اب سیاست نام ہو گیا ہے انسانی زندگی کے ہر شعبہ میں دخل اندازی کا پہلے زمانہ میں بادشاہوں کو اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا کہ غیر ملکوں کے لوگ کس طرح روزی کماتے، کھاتے یا کس طرح پڑھتے اور کیا سیکھتے ہیں یا کس قسم کی ان کی معیشت ہے یا ان کے ملکی قانون کیا ہیں اور کیا نہیں لیکن اب سیاست ان چیزوں میں دخل دیتی ہے اور ان چیزوں میں دخل دینا ضروری قرار دیتی ہے ایک طرف تو حریت و آزادی کے ڈھول بجائے جاتے ہیں دوسری طرف کہا جاتا ہے کہ ہم غیرملکوں میں ایسی ہی حکومت قائم ہونے دیں گے جو حکومت ہمارے اصولِ سیاست کے مطابق ہو۔کبھی کمزور حکومتوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ زبردست حکومتوںکو اپنے ملک کی کانیں سپرد کر دیں۔کبھی اس بات پر مجبور کیا جاتاہے کہ ان کا بنکنگ سسٹم اس زبردست ملک کے مطابق ہو اور وہ وزیر مالیات اس دوسری حکومت سے مانگ کر لیں۔کبھی مجبور کیا جاتا ہے کہ ان کے کالج کھولنے کی ان کو اجازت دی جائے۔کبھی خاص خاص پابندیاں تجارت پر اور صنعت اور حرفت پر لگا دی جاتی ہیں کہ کیا کیا چیز وہ بنائیں یا کیا کیا چیز وہ نہ بنائیں۔غرض پرانی سیاست تو نئی سیاست کے مقابل پر ایک نادان بچہ معلوم ہوتی ہے۔عوام کی حکومت قائم ہو گئی ہے اور پرانا نظام اکھاڑ کر پھینک دیا گیا ہے۔معاشیات میں تبدیلی (با)معاشیات میں جو تبدیلی ہوئی ہے اس کا بھی کوئی اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔جو اشیاء پہلے زمانہ میں تعیّش اور امراء کا واحد حق سمجھی جاتی تھیں اب عوام کی ملکیت ہو رہی ہیں۔جو کھانے آج متمدن ممالک کے غرباء کو مل رہے ہیں وہ پرانے زمانہ کے امراء کو بھی میسر نہ تھے۔متمدن ممالک کا ایک غریب آدمی بھی ہزاروں میل