تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 214
ہو کر نہ چاہا کہ ہلاکت سے بچو۔غرض اللہ تعالیٰ اپنی ہر بڑی نعمت انہیں گنائے گا اور انہیں شرمندہ اور ملزم کرنے کے لئے کہے گا کہ میری نعمتوں کی تم نے کچھ بھی قدر نہ کی۔دنیا میں لَتُسْـَٔلُنَّ يَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيْمِ کا نظارہ یہ تو آخرت کے لحاظ سے معنے ہیں۔دنیا میں بھی تباہ شدہ اقوام پر لَتُسْـَٔلُنَّ يَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيْمِ کا ایک وقت آیا کرتا ہے جب قومیں تباہ ہوتی ہیں اس وقت کفِ افسوس ملتی ہوئی ایک دوسرے سے کہا کرتی ہیں کہ ہمیں فلاں موقع ملا مگر ہم نے ضائع کر دیا۔فلاں موقع ملا مگر ہم نے اس سے کچھ فائدہ نہ اٹھایا کاش ہم سنبھل جاتیں اور اپنی قبر اپنے ہاتھوں سے نہ کھودتیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک دفعہ اپنی خلافت کے ایام میں حج بیت اللہ کے لیے مکہ میں تشریف لے گئے۔جب حج سے فارغ ہوئے تو جیسے ہمارے ہاں عید کے موقعہ پر لوگ ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے ہیں اسی طرح بڑے بڑے رئووسا آپ کی خدمت میں مبارک باد دینے اور سلام عرض کرنے کے لیے حاضر ہوئے۔ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جس میں حضرت عمر ؓ بیٹھے تھے بڑے بڑے ہال اس زمانہ میں نہیں ہوتے تھے کہ زیادہ لوگوں کے بیٹھنے کے لیے گنجائش نکل سکے تھوڑے لوگ بھی آجاتے تو کمرہ بھر جاتا تھا۔حضرت عمر ؓ اس خاندان میں سے تھے جو انساب کو یاد رکھا کرتا تھا اور جسے معلوم ہوتا تھا کہ فلاں شخص فلاں خاندان میں سے ہے اور فلاں شخص فلاں خاندان میں سے۔اس وقت بڑے بڑے رئووسا جو کفار مکہ کی اولاد میں سے تھے آپ سے ملنے کے لئے آئے وہ سمجھتے تھے کہ حضرت عمرؓ چونکہ ہمارے خاندانوں کے حا لات سے خوب واقف ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا کتنی بڑی عزت رکھتے تھے اس لئے دوسروں کے مقابلہ میں وہ ہمیں خاص عزت کی نگاہ سے دیکھیں گے۔حضرت عمر ؓ نے بھی ان کو نہایت عزت سے بٹھایا۔اپنے پاس جگہ دی اور مختلف امور پر ان سے باتیں شروع کر دیںابھی تھوڑی دیر ہی گذری تھی کہ ایک نو مسلم غلام آگیا حضرت عمر ؓ نے ان سے فرمایا ذرا پیچھے ہٹ جائو اور انہیں بیٹھنے کے لئے جگہ دے دو۔وہ پیچھے ہٹ گئے تو حضرت عمرؓ نے اس غلام کو اپنے پاس بٹھایا اور اس سے باتیں شروع کر دیںتھوڑی دیر گذری تو ایک اور نو مسلم غلام آگیا حضرت عمرؓ نے پھر فرمایا کہ ذرا پیچھے ہٹ جائو اور ان کو جگہ دے دو۔وہ بیٹھا تو ایک تیسرانو مسلم غلام آیا پھر چوتھا پھر پانچواں یہاں تک کہ یکے بعد دیگرے سات نو مسلم غلام آگئے اور حضرت عمرؓ ہر غلام صحابی کے آنے پر ان سے یہی فرماتے کہ ذرا پیچھے ہٹ جائواور ان کو بیٹھنے کی جگہ دے دو۔معلوم ہوتا ہے اس ابتلاء کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ان رئو وسا پر یہ حقیقت واضح کرنا چاہتا تھا کہ اب ساری عزت اسلام کی خدمت میں ہے کسی بڑے خاندان میں سے ہونا انسان کو عزت کا مستحق نہیں بنا سکتا۔جب اس طرح یکے بعد دیگرے نو مسلم غلام صحابہؓ کے آنے پر ان کو