تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 213
اَلنَّعِیْم سے مراد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود اَلنَّعِیْم سے میرے نزدیک اس جگہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجودمراد ہے اور اللہ تعا لیٰ فرماتا ہے کہ جب تم مر جائو گے تباہ اور برباد ہوجائو گے تو اس وقت میں تم سے پوچھوں گا کہ بتائو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نعمت تھے یا نہیں ؟انہوںنے کب سے تمہیں ہوشیار کرنا شروع کیا تھا کہ بچ جائو ہلاکت اور تباہی کے گڑھے میں اپنے آپ کو مت گرائو۔مگر تم نے ان کی نصیحت پر کان نہ دھرا اور آخر وہ وقت آگیا جب تم سچ مچ تباہ ہوگئے۔تم غور کرو کہ کتنی بڑی نعمت تھی جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی مگر تم نے اس سے کچھ بھی فائدہ نہ اٹھایا۔اس نے تمہیں وقت پر ہوشیار کر دیا تھا کہ دیکھو تم ایک خطر ناک گڑھے میں گر رہے ہو سنبھل جائو اور اپنے آپ کو ہلاکت سے بچالو۔مگر تم پھر بھی نہ بچے اور اپنے آپ کو تباہ کر لیا۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اَلنَّعِیْم سے ہر بڑی نعمت مراد ہو، اس صورت میں آیت کا یہ مفہوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ایک ایک کرکے اپنی تمام بڑی نعمتیں ان کے سامنے پیش کرے گا اور کہے گا کہ میں نے تمہیں یہ نعمت بھی دی وہ نعمت بھی دی مگر تم نے میری ساری نعمتوں کو ضائع کر دیا۔میں نے تمہیں روپیہ دیا تو تم نے اپنے گھروں میں رکھ لیا اور یہ پسند نہ کیا کہ تم غریبوں پر خرچ کرو یا صدقہ و خیرات دو یا یتامیٰ و مساکین کی خبر گیری کرو۔میں نے تمہیںحکومت دی تو تم نے لوگوں پر ظلم کرنا شروع کر دیا۔میں نے تمہیں عزت دی تو تم نے لوگوں کو ذلیل سمجھنا شروع کر دیا۔غرض کون سی نعمت تھی جو میں نے تمہیں دی اور تم نے اس کا برا استعمال نہ کیا۔پس اَلنَّعِیْم کے دونوں معنے ہو سکتے ہیں یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اَلنَّعِیْم سے نعمت کاملہ یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود مراد ہو۔اس صورت میں اس کا یہ مفہوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ان سے اپنی نعمت کاملہ یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق سوال کرے گا کہ تم نے اس کی نصیحتوں سے کیوں فائدہ نہ اٹھایا اور یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ اَلنَّعِیْم سے ہر بڑی نعمت مراد ہو یعنی مال ودولت، عزت ورسوخ اور حکومت جو خدا نے انہیں دی تھی اس کے متعلق ان سے سوال کیا جائے گا اور پوچھا جائے گا کہ خدا تعالیٰ کے اتنے بڑے احسانات کے ہوتے ہوئے تم نے ان نعمتوں سے کیا فائدہ اٹھایا۔یہ بھی انسان کے لیے سخت شرمندگی کا باعث ہوتا ہے کہ جب کسی برے کام کا نتیجہ نکل آئے تو اسے یاد دلایا جائے کہ دیکھو فلاں وقت میں نے تمہیں کہا تھا کہ ہوشیار ہو جائو مگر تم ہوشیار نہ ہوئے۔فلاں وقت میں نے تمہیں نصیحت کی تھی مگر تم اس سے متاثر نہ ہوئے۔اللہ تعالیٰ بھی ایسا ہی کرے گا اور ان کو اپنی ہر بڑی نعمت یا نعمت کاملہ یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود یاد دلائے گا اور کہے گا کہ بتائو کیا میرے اس قدر احسانات کے باوجود تمہارا یہی شیوہ ہونا چاہیے تھا کہ تم اِباء و اِستکبار سے کام لیتے۔میں نے خدا ہو کر چاہا کہ تم کو بچائوں مگر تم نے بندے