تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 16
پیدا کیا جائے۔سوم لوگوں میں غیر معمولی تبدیلی پیدا ہو جو علاوہ اور اقسام کے مندرجہ ذیل امور سے ہوا کرتی ہے (الف) سیاسیات میں تبدیلی کی وجہ سے (با) معاشیات میں تبدیلی کی وجہ سے (ج)مذہبیات میں تبدیلی کی وجہ سے (د) اخلاقیات میں تبدیلی کی وجہ سے (ہ)علوم میں تبدیلی کی وجہ سے(و)اقتصادیات میں تبدیلی کی وجہ سے۔یہ سارے کے سارے امور اہلِ دنیا کو ہلانے کے اس زمانہ میں ظاہر ہو رہے ہیں۔ساکنین ارض میں بیداری اور تغیر اوّل: بیداری کا پیدا ہونا۔پہلے زمانہ میں اگر بیداری پیدا ہوتی تھی تو صرف چوٹی کے چند آدمیوں میں پیدا ہوتی تھی کیونکہ اس سے پہلے دنیا کا نظام بادشاہت یا حکومتِ امراء پر چلا کرتا تھا اگر شاہی خاندان میں کوئی تبدیلی آتی یا حکومتِ امراء میں کوئی تغیر ہوتا تو وہ چند خاندانوں یا افراد تک محدود رہتا تھا عوام الناس کو نہ اس سے کوئی تعلق ہوتا تھا نہ دلچسپی سوائے اس کے کہ عوام الناس میں سے کچھ افراد نوکری کی وجہ سے اس لپیٹ میں آ جاتے تھے مگر اب جہاں دیکھو حکومتِ عوام ہے۔اوّل تو بادشاہتیں مٹ گئی ہیں اگر قائم ہیں تو صرف نام کی۔درحقیقت عوام کی بے پناہ طاقت ان کے پردہ میں اپنا کام کر رہی ہے جیسے انگلستان میں ہے، بیلجیم میں ہے، ہالینڈ میں ہے۔آج یہ بیداری عوام الناس میں ایسے طور پر پیدا ہو رہی ہے اور یہ حِس کہ بادشاہت عوام کی ہے نہ کہ کسی شخص یا اشخاص کی ایسا غلبہ پکڑ چکی ہے کہ بادشاہت کا تخت اب قلعہ میں محدود نہیں رہا ہر شہر، ہر قصبہ، ہرگائوں، ہرگلی اور ہر گھر میں خواہ وہ دنیوی وجاہت کے لحاظ سے کتنا ہی بڑا ہو یا کتنا ہی چھوٹا ہو آج ایک تختِ شاہی رکھا ہوا نظر آتا ہے ہر فرد اپنے دل میں بادشاہت کا برابر کا شریک اپنے آپ کو محسوس کر رہا ہے اس لیے جو تغیر بھی پیدا ہوتا ہے وہ صرف شاہی سینوں اور امراء کے سینوں میں حرکت پیدا نہیں کرتا بلکہ ملک کے ہر فرد کے قلب کی گہرائیوں میں ایک حرکت پیدا کر دیتا ہے، وہ حرکت جو پہلے زمانہ میں سمندر کی سطح پر پیدا ہوتی معلوم ہوتی تھی اب سمندر کو اس کی تہ تک ہلا دیتی ہے۔اس حد تک کہ اس کے اندر رہنے والی مچھلیوں کے لئے زندہ رہنا بھی مشکل ہو جاتا ہے تعلیم عام ہو چکی ہے، صنعت و حرفت عام ہو رہی ہے، جو علوم اور جو فنون پہلے خاص خاص لوگوں میں بطور ورثہ چلتے تھے اب دنیا میں اَلَمْ نَشْرَحْ ہو چکے ہیں۔جو کام پہلے جادوگریاں سمجھے جاتے تھے اب گلی گلی میں ان کے جاننے والے پائے جاتے ہیں بڑھنے اور ترقی کرنے کی اُمنگ ہر کس و ناکس میں پیدا ہے اور پیدا کی جارہی ہے۔دوسرے :تَـخْوِیْف بھی اپنے کمال کو پہنچ گئی ہے سیاسی اور مذہبی اختلافات کو اس طرح بڑھایا جارہا ہے کہ ہرسمجھ دار انسان کا دل آج دھڑک رہا ہے کہ کل کو کیا ہو جائے گا۔فرد فرد سے اور جتھہ جتھے سے اور قوم قوم سے اور ملک ملک سے خائف ہے اور ان کے خوف کو روز بروز ان کے لیڈر بڑھاتے چلے جا رہے ہیں کیونکہ مقابلہ کی رو ح