تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 15

گاؤں سے مراد گاؤں والے اور گدھوں کے قافلہ سے مراد گدھے کے سواروں یا ان کے چلانے والوں سے ہے اُردو میں بھی کہتے ہیں کہ سب گائوں کو اس کا علم ہے گائوں سے مراد اس جگہ گائوں والے لوگ ہوتے ہیں۔اس جگہ بھی زمین اور اہل زمین دونوں آیت کے مفہوم میں شامل ہیں اور بتایا گیا ہے کہ ایک وقت آئے گا جب سب زمین ہلائی جائے گی اور اہلِ زمین بھی ہلائے جائیں گے،خوف زدہ کئے جائیں گے اور ہو شیار کئے جائیں گے۔جہاں تک اس وقت تک کی تاریخ سے نتیجہ نکالا جا سکتا ہے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ نقشہ موجودہ زمانہ کا ہی کھینچا گیا ہے۔چنانچہ جس حد تک زمین کے ہلانے کا سوال ہے یہی زمانہ ہے کہ جس میں ریلوں اور کارخانوں کی کثرت کی وجہ سے زمین کانپتی رہتی ہے اور جہاں تک اہل زمین کا سوال ہے مقابلہ کا ایسا بازار گرم ہے کہ متمدن دنیا میں چلتا ہوا انسان نظر آنا مشکل ہے۔سب دوڑ رہے ہیں رات کو دنیا کی حالت کچھ ہوتی ہے تو صبح کو کچھ اور ہو جاتی ہے۔زمین رات اور دن چلنے والی ریلوں کی وجہ سے لرزہ بر اندام رہتی ہے اور دنیا کا کوئی گوشہ نہیں جہاں ریلوں اور کارخانوں نے زمین کو جنبش نہیں دے رکھی۔کبھی کارخانوں کے علاقوں میں جائو یا ریل کی پٹڑی کے پاس ریل کے گذرتے وقت گذرو تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ایک زلزلہ آیا ہوا ہے۔زمین کے ہلائے جانے سے مراد اہل زمین کا ہلایا جانا پھر لڑائی کے سامان ایسے ایجاد ہوئے ہیں کہ ان سے زمین ہل رہی ہے۔جنگیں ایسی خطرناک صورت اختیار کر گئیں ہیں کہ شہروں کے شہر اُڑا دیئے جاتے ہیں اور زمین میں غار پڑ جاتے ہیں۔پھر زلازل بھی الٰہی کلام کے ماتحت بکثرت آ رہے ہیں اور علاقوں کے علاقے ان سے صاف ہو گئے ہیں پس جہاں تک زمین کے ہلنے کا سوال ہے ان ایام میں زمین ایسی ہلی ہے کہ دنیا میںاس کی نظیر پہلے نہیں ملتی کیونکہ پہلے صرف زلزلوں سے جو ممکن ہے بعض موجودہ زلزلوں سے بھی بڑے ہوں زمین ہلا کرتی تھی مگر اب (۱)زلزلوںسے اور متواتر زلزلوں سے اور عالمگیر زلزلوں سے ہل رہی ہے (۲) تو پوں، ہوائی جہازوں کے بموں، ڈائنامیٹ اور اب ایٹم بموں کے ذریعہ سے جو ساری دنیا اور ہر خطہ زمین پر اثر انداز ہوئے ہیں زمین ہلی ہے اور بہت بُری طرح ہلی ہے اور یہ اشیاء پہلے زمانہ میں موجود ہی نہیں تھیں اسی زمانہ میں ایجاد ہوئی ہیں (۳) ریلوں، زمین دوز ریلوں اور کارخانوں کی وجہ سے جو قطب شمالی سے قطب جنوبی تک اور مغرب سے مشرق تک پھیلے ہوئے ہیں زمین روزو شب ہل رہی ہے اور اگر یہی ترقی جاری رہی تو ہلتی چلی جائے گی۔دوسرے معنے اہل زمین کے ہیں۔اگر ہم دیکھیں تو وہ بھی اس طرح ہلائے گئے ہیں کہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہلائے گئے انسانوں کے ہلنے کے یہ معنے ہوا کرتے ہیں اوّل لوگوں میں بیداری پیدا کی جائے۔دوم لوگوں میں خوف