تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 14

ہوتے کہ زمین خوب ہلائی جائے گی۔لیکن زِلْزَال کو اَرْض کی طرف اضافت دے کر اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اس جگہ خاص مقدر زلزلہ مراد ہے نہ کہ عام زلزلہ خواہ کتنا ہی سخت کیوں نہ ہو۔عام زلازل تو آتے ہی رہتے ہیں خواہ سینکڑوں سال کے بعد آئیں۔مگر بوجہ اس کے کہ وہ متواتر اور بار بار آتے ہیں وہ زِلْزَالَھَا کہلانے کے مستحق نہیں ہو سکتے۔زِلْزَالَھَا وہی زلزلہ کہا جا سکتا ہے جو زمین کے ساتھ تعلق رکھنے والا خاص زلزلہ کہلاسکتا ہو اور پھر ہو بھی ساری زمین پر تا کہ اس کے آنے پر صرف یہ نہ کہا جائے کہ زمین پر ایک زلزلہ آ گیا بلکہ یوں کہا جائے کہ زمین کا مخصوص زلزلہ یا مقدر زلزلہ آ گیا عبارت کی اس بناوٹ ہی کی وجہ سے مفسرین کا ذہن ادھر گیا ہے کہ یہاں زلزلۂ قیامت مراد ہے جب کہ ان کے نزدیک ساری زمین پر زلزلہ آئے گا اور زمین تہ وبالا ہو جائے گی۔(فتح القدیر سورۃ الزلزال زیر آیت اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ) اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ میں بیان شدہ پیشگوئی کے پورے ہونے کا زمانہ زمین کی ایک دن تباہی تو قرآن کریم اور احادیث سے ثابت ہے لیکن یہ کہ وہ زلزلہ کے ذریعہ سے ہو گی میرے علم میں کسی نص سے ثابت نہیں بلکہ احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سورج قریب آ جائے گا اور سب دنیا اس کی گرمی کی وجہ سے تباہ ہو جائے گی۔(المعجم الکبیر للطبرانی باب المیم، المقدام بن معدی کرب الکندی) لیکن بہر حال اس آیت کے الفاظ ایسے ہیں کہ ان سے یا تو قیامت مراد لی جا سکتی ہے یا پھر کوئی ایسا امر جو قیامت کے مشابہ ہو اور سب دنیا سے تعلق رکھتا ہو۔میری ذاتی رائے یہی ہے جیسا کہ میں اگلی آیات سے اپنے استدلال کو پیش کروں گا کہ اس جگہ قیامت کُبریٰ مراد نہیں بلکہ اس کے قریب زمانہ میں ظاہر ہونے والا وہ عظیم الشان تغیر مراد ہے جو زمانہء مسیح موعود میں مقدر تھا اور جسے اس کے پھیلائو، اس کی اہمیت اور اس کے خطرناک نتائج کے لحاظ سے قیامت کہا جا سکتا ہے۔زِلْزَال کے چار معنے زِلْزَال کے معنے جیسا کہ میں بتا چکا ہوں ہلانے، خوف زدہ کرنے اور ہوشیار اور چوکس کرنے کے ہیں۔ان معنوں کے رُو سے اس آیت کا یہ مفہوم ہو گا کہ جب سب کی سب زمین کو ہلا دیا جائے گا، خوف زدہ کیا جائے گا اور ہوشیار کیا جائے گا ان معنوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ نتیجہ لازماً نکلتا ہے کہ اس جگہ زمین کا لفظ صرف زمین کے معنوں میں استعمال نہیں ہوا بلکہ اہل زمین بھی اس جگہ پر مراد ہیں جیسا کہ قرآن کریم میں قریہ سے اہل قریہ اور عیر سے اہل عیر مراد لئے گئے ہیں سورئہ یوسف رکوع ۱۰ میں اللہ تعالیٰ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کی زبان سے فرماتا ہے۔وَ سْـَٔلِ الْقَرْيَةَ الَّتِيْ كُنَّا فِيْهَا وَ الْعِيْرَ الَّتِيْۤ اَقْبَلْنَا فِيْهَا اسی گائوں سے پوچھ لیجئے جس گائوں میں ہم تھے اور اسی گدھوں کے قافلہ سے پوچھ لیجئے جس کے ساتھ ہم اس طرف آئے ہیں۔اس جگہ