تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 179

ہے کہ آخری زمانہ میں جب اسلام پر مصیبت اور تکالیف کے دن آئیں گے تو پھر اللہ تعالیٰ ایسے حالات پید اکردے گا جن کے نتیجہ میں اسلام کو فتح حاصل ہوگی۔چنانچہ یہ آیات میرے اس دعویٰ کی تائید کرتی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس زمانہ میں فساد اور کفر کا غلبہ دیکھ کر تمہیں مایوسی نہیں ہونی چاہیے۔جب لوگ ایک دوسرے کو تباہ و برباد کرنے میں مصروف ہوجائیں گے۔شدید لڑائیاں لڑی جائیں گی اور بڑی بڑی طاقتیں ٹوٹ جائیں گی اس وقت جہاں ہم دنیوی مقابلہ میں ان لوگوں کو غلبہ دیں گے جن کے پاس دنیوی سامانوں کی فراوانی ہوگی وہاں روحانی مقابلہ میں ہم ان لوگوں کی ذرا بھی پروا نہیں کریں گے اور صرف ان لوگوں کو فتح عطا فرمائیں گے جن کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوگا۔جب دنیوی مقابلہ میں وہی قوم جیت سکتی ہے جس کے پاس دنیوی سامان زیادہ ہوں تو روحانی مقابلوں میں وہ قوم کس طرح جیت سکتی ہے جس کے پاس روحانی سامان کم ہوں۔اصول تو آخر دونوں جگہ ایک ہی کارفرما ہوگا۔جس طرح دنیوی مقابلہ کے وقت میزان کا بھاری ہونا کامیابی کی طرف لے جاتا ہے اسی طرح روحانی مقابلہ کے وقت صرف اسی قوم کو فتح حاصل ہوسکتی ہے جس کے پاس روحانی سامان زیادہ ہوں۔وہ قوم کبھی فاتح نہیں ہوسکتی جس کے پاس روحانی سامانوں کی قلت ہو۔اس آیت میں گو ثَقُلَتْ مَوَازِيْنُهٗ کے مقابلہ میں خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٗ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں جس کے معنے یہ ہیں کہ ان کے پاس وزن تو ہوں گے مگر کم۔لیکن قرآن کریم کی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کے پاس کچھ بھی وزن نہیں ہوگا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًا (الکہف: ۱۰۶) ہم قیامت کے دن ان کے لئے کوئی وزن قائم نہیں کریں گے۔پس چونکہ ایک جماعت کے پاس روحانی سامانوں کی فراوانی ہوگی اور دوسری جماعت کے پاس روحانی سامانوں کا کلیۃً فقدان ہوگا اس لئے وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کی محبت اپنے دل میں رکھتے ہوں گے اور جنہیں اس کا قرب حاصل ہوگا ان کا پلڑا تو بھاری ہوجائے گا مگر جن کے وزن بہت کم ہوں گے یا جن کے وزن ہوں گے ہی نہیں ان کا پلڑا ہلکا ہوجائے گا۔گویا پہلے ان لوگوں کا پلڑا بھاری ہوگا جو دنیوی سامان اپنے پاس زیادہ رکھتے ہوں گے اور ان لوگوں کا پلڑا ہلکا ہوگا جو دنیوی سامان اپنے پاس کم رکھتے ہوں گے۔پھر ہم روحانی جنگ کا نتیجہ ظاہر کریں گے اور وہ بھی اسی اصول پر۔یعنی جن کی روحانیت بڑھی ہوگی جو تقویٰ اور خدا ترسی کا مادہ اپنے اندر رکھتے ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرتے ہوں جن کی رات اور دن یہی کوشش ہوگی کہ خدا تعالیٰ کا نام بلند ہو اور اس کے احکام پر عمل لوگوں کا شیوہ ہو۔وہ تو فتوحات حاصل کریں گے اور جن کے پاس روحانی سامانوں کی کمی ہوگی یا روحانی سامان کلی طور پر مفقود ہوں گے وہ خدائی نصرت