تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 180

سے محروم رہیں گے۔بہرحال اس وقت دو۲ ہی قسم کے لوگ آرام میں رہیں گے یا تو وہ اقوام جو محنتی اور جفاکش اور بڑے سازو سامان والی ہوں گی یا وہ جو خدا تعالیٰ کے نزدیک اس کی محبوب ہوں گی اور اس کے بالمقابل جن کے وزن ہلکے ہوں گے یعنی ان کے پاس سازوسامان نہ ہوگا۔ان کی ماں ہاویہ ہوگی وہ دکھ پائیں گے او ردینی لحاظ سے جو خدا تعالیٰ کے محبوب نہ ہوں گے وہ تباہ ہوں گے۔گویا پہلے زیادہ سازوسامان والے جیتیں گے اور پھر ان لوگوں کا پلڑا بھاری ہوگا جن کا روحانی سامانوں کے لحاظ سے کوئی دوسرا شخص مقابلہ نہیں کرسکے گا۔چونکہ دنیوی فتح سے یہ شبہ پیدا ہوسکتا تھا کہ شاید انہیں خدائی مدد حاصل ہے اس لئے ثَقُلَتْ اور خَفَّتْ کے الفاظ استعمال فرماکر اللہ تعالیٰ نے بتادیا کہ اس میں خدائی مدد کا کوئی سوال نہیں۔ایک کے پاس سامان زیادہ ہوگئے تو وہ جیت گیا اور دوسرے کے پاس سامان کم ہوگئے تو وہ ہار گیا۔اگر خدائی مدد ان کے شامل حال ہوتی تو دوسرے مقابلہ میں بھی وہ جیت جاتے مگر دوسرے مقابلہ میں ایسانہیں ہوگا۔اس مقابلہ میں وہ فاتح اقوام جو دنیوی مقابلہ کے وقت اپنے مادی سامانوں کی کثرت کی وجہ سے جیت گئی تھیں بری طرح شکست کھائیں گی اور کمزور دکھائی دینے والے لوگ اپنے روحانی سامانوں کی کثرت کی وجہ سے فتح حاصل کرلیںگے۔اس جگہ گو محاورہ کے طور پر خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٗ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں مگر درحقیقت مراد یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی وزن ہوگا ہی نہیں جو مقابلہ کے وقت ظاہر کرسکیں۔کیونکہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ لَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًا۔بہرحال دنیوی مقابلوں میں وہ قوم جیتے گی جس کے پاس دنیوی سامان زیادہ ہوگا اور روحانی مقابلہ میں وہ قوم جیتے گی جس کے پاس روحانی سامان زیادہ ہوگا۔یہ دونوں اٹل فیصلے ہیں اس لئے جب ان میں سے ایک ظاہر ہوجائے تو تمہیں دوسرے فیصلہ کے متعلق بھی یہ امید رکھنی چاہیے کہ وہ جلدی ظاہر ہوجائے گا۔ترقی اور تنزّل کے بنیادی وجوہ کا ذکرکرنے کے بعداب اللہ تعالیٰ یہ بتاتاہے کہ وہ قوم جس کی میزان ہلکی ہوگی اس کی کیا حالت ہوگی۔فرماتا ہے اُمُّهٗ هَاوِيَةٌ اس کی ماں ہاویہ ہوگی۔اُمُّهٗ هَاوِيَةٌ کے چند مطالب هَاوِيَةٌ کے ایک معنے جیسا کہ حل لغات میں بتایا جاچکا ہے تنزّل کے ہوتے ہیں۔اس لحاظ سے اس آیت کا یہ مطلب ہوا کہ تنزّل کی حالت اس کی ماں ہوگی یعنی اس کے اندر تنزّل کا بیج پایا جائے گا جس طرح ماں سے آئندہ نسل کا سلسلہ چلتا ہے اسی طرح تنزّل صرف اس کی ذات تک محدود نہیں ہوگا بلکہ آئندہ نسلوں تک بھی اس کا اثر پہنچے گا۔درحقیقت تنزّل د ور نگ کاہوتاہے۔ایک تنزّل کسی قوم یا فرد کی ذات تک