تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 178
لفظ استعمال کیا جاتا ہے یہ بتانے کے لئے کہ اس قسم کے عذاب کے جو نتائج ظاہر ہوتے ہیں ان کے پیچھے الٰہی مشیت کام کررہی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے وہ قوم جس کا پلڑابھاری ہوگا وہ تو راحت و آرام کی زندگی بسر کرے گی لیکن وہ قوم جس کاپلڑا ہلکا ہوگا وہ تباہ و برباد کردی جائے گی۔جیسے آج اتحادی کہتے ہیں کہ ہمارا پلڑا بھاری ہوگیا اس لئے ہم جیت گئے اور محوری طاقتیں کہتی ہیں کہ ہمارا پلڑا ہلکاہوگیا اس لئے ہم ہارگئے۔پلڑا بھاری ہونے کے یہ بھی معنے ہیں کہ جن کے جہازوں کا وزن زیادہ ہوگا وہ جیت جائیں گے۔یہ محاورہ اس زمانہ میں بڑی کثرت سے استعمال ہوتا ہے اور حکومتیں اپنے اعلانات میں ہمیشہ کہتی رہتی ہیں کہ ہمارے جہازوں کی اتنی ’’ٹنیج‘‘ ہے یعنی اتنا وزن ہے یا اتنے ٹن بم ہماری طرف سے دشمن پر گرائے گئے ہیں۔بہرحال جن کی ’’ٹنیج‘‘ زیادہ ہوگی یا جن کے پاس دنیوی سامانوں کی دوسروں کے مقابلہ میں کثرت ہوگی فَهُوَ فِيْ عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍ ان کو فتح ہوگی اور وہ مزے اڑائیں گے۔وَاَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٗ فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌ لیکن جن کی ’’ٹنیج‘‘ کم ہوگی وہ ہاویہ میں گرائے جائیں گے۔جیسے جاپان کے بادشاہ نے کہا کہ ہماری شکست کی بڑی وجہ ہمارے سامانوں کی کمی ہے۔ہٹلر نے بھی یہی کہاکہ سامانوں کی کمی کی وجہ سے ہمیں شکست ہوئی ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ اس وقت بہادری اور جسمانی طاقت کا زور نہ رہے گا۔شکست و فتح کا سارا انحصار اس زمانہ میں سامانوں کی کثرت اور ان کی قلت پر آرہے گا۔جن کی ’’ٹنیج‘‘ بڑھ جائے گی وہ جیت جائیں گے اور جن کی ’’ٹنیج‘‘ کم ہوگی وہ ہارجائیں گے۔اَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِيْنُهٗسے مراد یہ تو اس آیت کے ایک معنے ہوئے قرآن کریم سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ثَقُلَتْ مَوَازِيْنُهٗ کے الفاظ ان لوگوں کی نسبت استعمال کئے جاتے ہیں جن کی نیکیاں زیادہ ہوں اور خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٗ کے الفاظ ان لوگوں کی نسبت استعمال ہوتے ہیں جن کی نیکیاں کم ہوں۔اس لحاظ سے دوسرے معنے اس آیت کے یہ ہوں گے کہ جن کی نیکیاں زیادہ ہوں گی وہ جیت جائیں گے اور جن کی نیکیاں کم ہوں گی وہ ہارجائیں گے۔گویا دو نتائج ظاہر ہوں گے دنیوی مقابلہ کے وقت جن کے پاس دنیوی سامان زیادہ ہوں گے وہ جیت جائیں گے اور جن کے پا س دنیوی سامان کم ہوں گے وہ ہارجائیں گے اور روحانی مقابلہ کے وقت جن کے روحانی کام، کام کہلانے کے مستحق ہوں گے وہ جیت جائیں گے اور جن کے روحانی کام، کام کہلانے کے مستحق نہیں ہوں گے وہ شکست کھاجائیں گے۔پہلی فتح مادیات کے وزن پر ہوگی اور دوسری فتح روحانیات کے وزن پر ہوگی۔میں نے اس سورۃ کے شرو ع میں بتایا تھا کہ اس میں اسلام کی دوبارہ ترقی کا ذکر کیا گیا ہے او ربتایا گیا