تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 177

تولنے والا ایک ہی ہوگا۔اسی حقیقت کو قرآن کریم نے دوسرے مقامات پر مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ کے الفاظ میں بیان کیا ہے یعنی اس روز تمام انسانی مالکیتیں ختم ہوجائیں گی صرف ایک خدا کی مالکیت کاکامل ظہور ہوگا۔پس چونکہ اپنے اعمال کا وزن کرانے والے زیادہ ہوتے ہیں اس لئے بندوں کے لحاظ سے قرآن کریم مَوَازِیْن کا لفظ استعمال کرتا ہے اور چونکہ وزن کرنے والا ایک ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے لحاظ سے مِیْزَان کا لفظ استعمال ہوتاہے۔یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ قرآن کریم میں جہاں جہاں قارعہ کا لفظ آیا ہے اس نتیجہ پر دلالت کرنے کے لئے آیا ہے جو خدا تعالیٰ کا ہاتھ انبیاء کے زمانہ میں خود پید افرماتا ہے گویا قارعہ عام عذابوں کو نہیں کہا جاتا بلکہ اس سے وہ مخصوص عذاب مراد ہوتے ہیں جو انبیاء کی صداقت کا اظہار کرنے کے لئے آئیں۔خواہ بلا واسطہ آئیں یا بالواسطہ۔اور جن کے پس پشت خدا تعالیٰ کا ہاتھ کام کررہا ہوتا ہے۔زیر تفسیر آیت میں فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِيْنُهٗ۔فَهُوَ فِيْ عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍ۔وَاَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٗ۔فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌ کے الفاظ اسی قارعہ کے انجام پر دلالت کرنے کے لئے آئے ہیں کیونکہ یہ وہ عذاب ہے جس کے پیچھے خدائی مشیت کا ہاتھ کام کررہا ہے۔جس طرح اللہ تعالیٰ نے صحابہؓ کے ان لشکروں کا حملہ اپنی طرف منسوب کیا جو انہوں نے کفار پر کیا تھا۔جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس طاغیہ کو اپنی طرف منسوب کیا جو قوم ثمود کی ہلاکت کا موجب ہوئی اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس شدید ہوا کو اپنی طرف منسوب کیا جو عاد کی تباہی کا موجب ہوئی کیونکہ یہ سب عذاب خدائی مشیت اور اس کے ارادہ کے ماتحت آئے تھے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ اس جگہ قارعہ کو اپنی طرف منسوب کرکے اس کے نتائج کا اعلان فرماتا ہے کیونکہ یہ قارعہ خدائی پیشگوئیوں کے ماتحت آیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو الہامات کے ذریعہ پہلے سے خبر دے دی تھی کہ ’’کئی نشان ظاہر ہوں گے۔کئی بھاری دشمنوں کے گھر ویران ہوجائیں گے وہ دنیا کو چھوڑ جائیں گے۔ان شہروں کو دیکھ کر رونا آئے گا وہ قیامت کے دن ہوں گے۔زبردست نشانوں کے ساتھ ترقی ہوگی‘‘۔(تذکرہ صفحہ ۶۰۷،۶۰۸) ان الہامات کے ذریعہ چونکہ اس عذاب کی خبر پہلے سے دی جاچکی تھی اس لئے گو ایٹم بم کو ایجاد کرنے والے بندوں کے ہاتھ تھے مگر اس کو منسوب خدا تعالیٰ کی طرف ہی کیا جائے گا۔جیسے صحابہؓ کے ہاتھ سے اللہ تعالیٰ نے کفار کو سزا دلوائی مگر قرآن کریم میں اسے قارعہ قرار دیا گیا۔کیونکہ وہ عذاب خدائی سکیم کے ماتحت کفار پر نازل ہوا تھا۔بہرحال جو بلا اور مصیبت اتفاقی حادثہ نہ ہو بلکہ خدا تعالیٰ کی کسی سکیم اور پیشگوئی کے ماتحت آئے اس کے لئے قارعہ کا