تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 153

استعمال ہوا ہے حالانکہ یہاں انسانوں کا ذکر ہے اور انہی کا انجام اس میں بیان کیا گیا ہے۔میں پہلے بتا چکا ہوں کہ بعض دفعہ جب کسی صفت کو بیان کرنا مدّ ِنظر ہو تا ہے تو اس کی طرف اشارہ کرنے کے لئے بھی مَا آجاتا ہے قطع نظر اس سے کہ وہ صفت اچھی ہو یا بری۔بعض دفعہ اچھی صفت کے لئے مَا استعمال ہو جاتا ہے جیسے حضرت مریم علیہا السلام کے متعلق آتا ہے کہ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ ( اٰلِ عـمران:۳۷) اور بعض دفعہ بُری صفت کے لئے مَا استعمال ہو تا ہے جیسے اس جگہ ذوی العقول کے لئے مَا آیا ہے اس لئے کہ ان کی صفتِ تعطل و عدم حرکت کی طرف اشارہ مقصود ہے۔درحقیقت دنیا میں انسان وہ کہلاتا ہے جس میں حرکت ہو۔جس کے اندر ترقی کی امنگ ہو۔جس میں نیک تبدیلی کی خواہش ہو اور جس کے اعمال اس کی زندگی کا ثبوت دے رہے ہوں۔اگر کوئی شخص زندگی کی علامات اپنے اندر نہیں رکھتا۔اس کی امنگیں مردہ ہو چکی ہوں۔اس کی ہمت کوتاہ ہو۔اس کے خیالات افسردہ ہوں۔اس کے دل کے کسی گوشہ میں بھی اپنی ترقی کا کوئی جذبہ موجود نہ ہو۔اس کی قوت عملیہ پر مردنی چھائی ہوئی ہو اور اس کے اعمال سے نحوست ٹپک رہی ہو تو ایسے شخص کو قطعاََ زندہ نہیں کہا جا سکتا۔زندہ وہی کہلاتا ہے جس کے اندر زندگی کے آثار پائے جاتے ہوں۔اگر کوئی فرد اپنی زندگی کے آثار کو کھو بیٹھتا ہے یا کوئی قوم زندگی کے نشانات اپنے اندر نہیں رکھتی تو وہ ہرگز زندہ نہیں کہلا سکتی۔اہل مکہ کو مَا فِي الْقُبُوْرِکہنے کی وجہ اس جگہ مَا فِي الْقُبُوْرِ سے اہل مکہ مراد ہیں اور اللہ تعالیٰ یہ بتاتا ہے کہ یہ قوم وہ ہے جو ان تمام چیزوں سے محروم ہے جو کسی قوم کی زندگی کا نشان ہوا کرتی ہیں۔بے شک یہ لوگ بظاہر زندہ اور چلتے پھرتے نظر آتے ہیں مگر در حقیقت مردہ ہیں کیونکہ ان کے دلوں میں کوئی امنگ نہیں۔ترقی کی کوئی خواہش نہیں۔عمل کا کوئی جوش نہیں۔علم کے حصول کی کوئی تڑپ نہیں۔نیک تغیر پیدا کرنے کا کوئی احساس نہیں۔یہ چلتے پھرتے زندہ درحقیقت مردہ ہیںاور مردہ بھی ایسے جو مَا فِي الْقُبُوْرِ ہیں۔ایک چیز ایسی ہوتی ہے جو باہر پڑی ہوئی ہوتی ہے ایسی چیز کو کوئی دوسرا شخص ہلا بھی سکتا ہے۔مثلاً پتھر پڑاہوا ہوتا ہے پتھر ایک بے جان چیزہے مگر چونکہ وہ باہر زمین پرپڑا ہوتا ہے بچے اسے ٹھوکر مارتے ہیں تو وہ کہیں کا کہیں چلا جاتا ہے لیکن وہ چیز جو قبور میں دبی پڑی ہو اسے کوئی ہلا نہیں سکتا پس مَا فِي الْقُبُوْرِ کہہ کر اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اوّل تو خود ان میں حرکت نہیں اور پھر یہ مٹی کے نیچے دفن ہیں کوئی دوسرا شخص بھی ان کو ہلا نہیں سکتا۔یہ ان کی کمال درجہ کی مردنی کا اظہار ہے کہ نہ ان میں خود کوئی حرکت ہے اور نہ کوئی دوسرا انہیں حرکت دے سکتا ہے۔کئی چیزیں بے جان ہوتی ہیں لیکن دوسرے لوگ ان سے کام لے لیتے ہیں۔مثلاً ڈول جس سے پانی نکالا جاتاہے ایک بے جان چیز ہے مگر جب اسے کنوئیں میں ڈالا