تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 154

جاتا ہے تو وہ ہلتا ہے اور پانی لے کر باہر آجاتا ہے۔اسی طرح چرخی خود بے جان چیز ہے مگر جب کوئی دوسرا اسے حرکت دیتا ہے تو وہ فوراً حرکت میں آجاتی ہے۔مگر جو چیز قبر میں پڑی ہوئی ہو اس میں نہ خود حرکت ہوتی ہے نہ کوئی دوسرا اس میں حرکت پیدا کر سکتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ اس امر کی طرف اشارہ فرماتا ہے کہ مکہ کے لوگ وہ ہیں جن میں کسی رنگ میں بھی بیداری نہیں پائی جاتی۔نہ ان میں خود بیداری ہے نہ کسی بیدار قوم سے ان کا تعلق ہے۔بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی قوم میں خود تو بیداری نہیں ہوتی مگر بیدار قوم سے مل کر اس کی حالت بدل جاتی ہے۔مثلاً ہندوستان کو دیکھ لو بظاہر ایک مردہ ملک ہے مگر چونکہ ایک زندہ قوم یعنی انگریزوں سے اس کا تعلق ہے اس لئے وہ جنگ کے موقع پر دس بیس لاکھ فوج ہندوستان سے نکال ہی لیتے ہیں۔اسی طرح گو ہندوستان کی ساری دولت انگریز لے گئے مگر پھر بھی ایک زندہ قوم سے تعلق ہونے کی وجہ سے اس کی تجارت کی طرف دنیا للچائی ہوئی نگاہوں سے دیکھتی ہے۔اب روپیہ چاہے انگریز لے گئے ہوں لیکن ایک زندہ قوم سے تعلق ہونے کی وجہ سے ملک میں بیداری کے آثار پائے جاتے ہیں۔پس زندگی کی د۲و ہی صورتیں ہوتی ہیں یا تو کوئی قوم خود زندہ ہو یا کسی زندہ قوم سے اس کا تعلق ہو۔مگر جو قبر میں دبی پڑی ہو اس کی ترقی کی کیا صورت ہوسکتی ہے۔قبر میں دبے ہونے کے معنے یہ ہیں کہ مکہ والوں میں نہ آپ زندگی پائی جاتی ہے نہ کسی زندہ قوم سے ان کا تعلق ہے گویا ان میں ذاتی زندگی بھی نہیں اوروہ اضافی زندگی بھی نہیں جو دوسروں سے تعلق رکھ کر پیدا ہوتی ہے۔اہل مکہ کی اس انتہا ئی گری ہوئی حالت کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَفَلَا يَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُوْرِ۔ان کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسا زمانہ لانے والا ہے جب یہی قوم جو نہ ذاتی زندگی رکھتی ہے نہ کسی طاقتورقوم سے اس کا تعلق ہے اس میں بھی ہم حرکت پیدا کر دیں گے۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ جس طرح مقنا طیس لوہے کو کھینچ لیتا ہے اسی طرح اسلام کی بدولت آخر اہل مکہ میں بھی جو مَا فِي الْقُبُوْرِ تھے ایک حیرت انگیز بیداری پیدا ہو گئی وہ تھے تو مردہ لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں ان کی مردہ ہڈیوں میں بھی ایک جان آگئی اور ان میں ایسی حرکت پیدا ہوئی کہ جس کی مثال ان کی زندگی کے دنوں میں دکھائی نہیں دیتی۔آخر عرب لوگ ہمیشہ سے مردہ قوم نہیں تھے۔ان پر ترقی کا دور بھی آچکا تھا مگر دنیا کی کوئی تاریخ ثابت نہیں کر سکتی کہ اسلام سے پہلے ان میں زندگی کے وہ آثار پائے جاتے ہوںجو اسلام کے ظہور پر ان میں پیدا ہوئے۔اسلام سے پہلے سارے عرب کی تاریخ میں کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ مکہ کے لوگوں نے اپنے گھروں سے باہر نکل کر کسی قوم پر حملہ کیا ہو۔مگر اسلام نے اس مردہ قوم کی ہڈیوں میں بھی ایسا ہیجان پیدا کر دیا