تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 152
اَفَلَا يَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُوْرِۙ۰۰۱۰ کیا وہ نہیں جانتا کہ جب وہ (لوگ) جو قبروں میں ہیں اٹھائے جاہیں گے۔حلّ لُغات۔بَعْثَـرَ۔بَعْثَـرَ کے معنے ہوتے ہیں نَظَرَ وَفَتَّشَ۔کسی بات میں غور وفکر کیا یا کسی پوشیدہ بات کی تفتیش کی۔اور بَعْثَـرَ الشَّیْءَ کے معنے ہوتے ہیں فَرَّقَہٗ،بَدَّدَہٗ پراگندہ کر دیا۔اِسْتَخْرَجَہٗ فَکَشَفَہٗ وَاَثَارَ مَا فِیْہِ۔کسی پوشیدہ چیز کو نکالا اس کو ظاہر کر دیا اور اس کی حقیقت کا اظہار کر دیا۔قَلَّبَ بَعْضَہٗ عَلٰی بَعْضٍ یا نیچے کی چیز کو اوپر کر دیا (اقرب) بُعْثِرَ مجہول کا صیغہ ہے اس کے معنے ہوں گے (۱)پراگندہ کر دیا گیا (۲) الٹایا گیا (۳) کسی پوشیدہ چیز کو ظاہر کیا گیا۔تفسیر۔اَفَلَا يَعْلَمُ ابتدائی ہمزہ استفہام انکاری کا ہے اور چونکہ استفہام کے بعد لَا آیا ہے جو دوسری نفی ہے اس لئے اس کے معنے مثبت کے بن جائیں گے اور اَفَلَا يَعْلَمُ کے معنے ہوں گے ’’کیا وہ نہیں جانتا ‘‘ اب ظاہر ہے کہ اس فقرہ میں کیا بھی انکار کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اور لَا کے تو معنے ہی انکار کے ہوتے ہیں پس بوجہ د۲و انکار جمع ہو جانے کے ایک استفہام انکاری اور ایک لَا اس کے معنے مثبت کے ہو گئے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ تم جانتے ہی ہو کہ میں خبیر ہوں اس لئے سنبھل کر چلو۔استفہام بہت سے امور کے لئے ہوتا ہے اس جگہ تہدید ووعید کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اور مراد یہ ہے کہ کیا وہ نہیں جانتا کہ ہم خبیر ہیں یعنی اسے عقل سے کام لینا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ اگر وہ ان باتوں سے باز نہیں آئے گا تو اس کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ہماری زبان میں بھی یعنی پنجابی اور اردو دونوں میں یہ محاورہ استعمال ہو تا ہے کہ’’تم جانتے ہی نہیں میں کون ہوں‘‘ اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ تمہیں معلوم نہیں بلکہ مراد یہ ہوتی ہے کہ تم جانتے ہی ہو کہ مجھے سزا دینے کی طاقت حاصل ہے اور جب تم اس بات سے بخوبی آگاہ ہو تو پھر تمہیں ڈرنا چاہیے۔میں تمہیں ہوشیار کر دیتا ہوں کہ اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہو گا۔اگر تم باز نہ آئے تو میں تمہاری خوب خبر لوں گا۔یہاں بھی استفہام تہدیدو وعید کے لئے آیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ کیا وہ جانتے نہیں کہ خدا تعالیٰ خبیر ہے یعنی اس بات کو بخوبی جانتے ہیں پھر جانتے بوجھتے ہوئے وہ اپنی شرارتوں سے باز نہیں آتے۔ہم اس فقرہ سے انہیں پھر ہوشیار کر دیتے ہیں کہ سنبھل کر چلو۔ایسی ہستی کا جوعلیم وخبیر ہو مقابلہ اچھا نہیں ہوتا۔کیونکہ واقف ہستی سے جہاں نیک اعمال والا نڈر ہوتا ہے بد اعمال زیادہ ڈرتا ہے۔اِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُوْرِ میں مَا سے مراد انسانوں کی صفات اِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُوْرِ میں مَا