تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 146
اس کے دروازہ پر آتا اور خیرات مانگتا ہے مگر وہ اسے روٹی نہیں دیتا۔اب اس نے بخل تو کیا ہے مگر اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے پاس کافی مال نہیں تھا صرف حسب کفایت تھا یا حسب کفایت سے بھی کم تھا اس وجہ سے وہ اپنا مال دوسرے کو دینے کے لئے تیار نہیں ہوا۔پس کبھی بخل ناداری کی وجہ سے ہوتا ہے نادار انسان بے شک اپنے مال کی حفاظت کرتا ہے مگر اس لئے کہ اس کے پاس صرف حسب کفایت ہوتا ہے اس سے زائد نہیں۔کبھی بخل یعنی مال کو روک لینا اس لئے ہوا کرتا ہے کہ جس مقصد کے لئے روپیہ خرچ کرنا ہوتا ہے وہ اس کے نزدیک اچھا نہیں ہوتا اگر ایسے مقصد کے لئے جس کو یہ اچھا نہیں سمجھتا کوئی دوسرا شخص لاکھ بار کہے کہ روپیہ خرچ کرو تو وہ کبھی خرچ کرنے کے لئے تیار نہیں ہوگا۔لوگ اسے بے شک طعنہ دیں اسے بخیل اور کنجوس قرار دیں وہ کہے گا تم مجھے بخیل کہو یا کچھ، میں روپیہ نہیں دوں گا کیونکہ میرے نزدیک جس مقصد کے لئے روپیہ مانگا جاتا ہے وہ پسندیدہ نہیں۔لیکن فرماتا ہے یہ شخص ایسا ہے کہ غریب بھی نہیں۔پیسے اس کے پاس ہیں ضرورت سے زائد ہیں اور پھر جو مقصد ہے وہ بھی برا نہیں۔کہا جاتا ہے کہ قوم کے غریبوں کا خیال رکھو۔قوم کے مساکین کا خیال رکھو۔قوم کے یتامیٰ کا خیال رکھو۔یہ کوئی برا مقصد نہیں کہ اس کے لئے روپیہ خرچ کرنے سے انسان کو ہچکچاہٹ ہو۔اگر کہا جاتا کہ اپنے روپیہ سے کنچنیاں نچوائو یا آتش بازی پر اپنا روپیہ صرف کرو تو وہ شخص کہہ سکتا تھا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا میرے نزدیک روپیہ کا یہ مصرف درست نہیں۔میں اس بارے میں تمہارے ساتھ اتفاق نہیں کر سکتا۔لیکن یہ شخص نہ تو غریب ہے اور نہ مقصد برا ہے بلکہ اس کے بخیل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ مال کی محبت جو فی ذاتہٖ ایک بے مقصد و بے مدعا شے ہے اسے مال خرچ کرنے سے روکتی ہے۔یہ امر ظاہر ہے کہ مال کی محبت فی ذاتہٖ مقصود نہیں ہوتی بلکہ مال ذریعہ ہوتا ہے کچھ اور کام کرنے کا مگر یہ بے مقصد و بے مدعا شے جو مال کی محبت ہے اس کے پیچھے روپیہ صرف کرنے سے رکتا ہے اور اتنا احمق ہے کہ یہ اس چیز کو جو ذریعہ ہے مقصود بنا لیتا ہے اور جس مقصد کے حصول کا وہ ذریعہ ہے اسے بھلا دیتا ہے اس سے بڑھ کر حماقت بھلا کیا ہوگی کہ مال جو حوائج کے پورا کرنے کے لئے ذریعہ ہوتا ہے فی ذاتہٖ مقصود نہیں ہوتا اس کو مقصود بنا لیا جائے اور جس غرض کے لئے روپیہ ہوتا ہے اس کو نظر انداز کر دیا جائے۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کسی کے پاس کپڑا تو ہو مگر وہ پھر بھی ننگا پھرے اور جب پوچھا جائے کہ تم کپڑا کیوں نہیں پہنتے تو جواب دے کہ اگر میں نے کپڑا پہنا تو پھٹ جائے گا۔ایسا شخص اگر احمق نہیں کہلائے گا تو کیا کہلائے گا۔مجھے افسوس ہے کہ ہمارے ملک کے بعض لوگوں کی بھی یہی حالت ہے چنانچہ صبح کے وقت کسی گائوں کی طرف سیر کے لئے نکلو تو تمہیں نظر آئے گا کہ زمیندار ننگے پائوں روڑوں اور کانٹوں پر چلتا چلا جارہا ہے اور اس نے اپنے ہاتھ میں جوتی اٹھا ئی ہوئی ہے یا سوٹی سے لٹکا کر اس سوٹی